فیصلہ آنے تک ٹرائل کو روکا جائے، استدعا، عدالت نے ٹرائل جاری رکھا
بشریٰ بی بی راولپنڈی کے10مقدمات میں شامل تفتیش ،جواب دے دیئے
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک )توشہ خانہ ٹو کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل نے گواہ قیصر محمود پر جرح کا آغاز کر دیا،بانی پی ٹی آئی نے جیل ٹرائل روک کر اوپن ٹرائل کرنے کی درخواست عدالت کو دیدی۔توشہ خانی ٹو کی سماعت سپیشل جج سنٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کی، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت میں پیش میں کیا گیا، بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے گواہ قیصر محمود پر جرح کی جو آئندہ سماعت پر بھی اپنی جرح کو جاری رکھیں گے، وکیل فیصل چودھری نے بانی پی ٹی آئی کا ٹرائل اوپن کورٹ میں کرنے کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ گزشتہ 20 ماہ سے بانی پی ٹی آئی جیل ٹرائل میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، عدالت سے استدعا ہے درخواست پر فیصلہ آنے تک ٹرائل کو روکا جائے، عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چودھری کی درخواست وصول کرکے ٹرائل کو جاری رکھا، دوسری جانب سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے مشال یوسفزئی کی درخواست پر جواب عدالت میں داخل کرا دیا جس میں کہا گیا کہ مشال یوسفزئی کا وکالت لائسنس کے پی بار نے معطل کر رکھا ہے،معطل لائسنس پر وکالت نامہ جمع کرانے پر کے پی بار تحقیقات بھی کر رہی ہے، توشہ خانہ ٹو کیس میں مجموعی طور پر 8 گواہوں کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں، کیس کی مزید سماعت 17 فروری کو ہوگی۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشری ٰبی بی راولپنڈی کے10مقدمات میں شامل تفتیش ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی نے تحریری جواب تفتیشی افسروں کو دے دیئے،بشریٰ بی بی نے بیان وکلاء سلمان صفدر،فیصل ملک،حسنین سنبل کی موجودگی میں دیئے۔ ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی نے جواب میں کہا ہے کہ میرے خلاف سیاسی انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے،کسی منصوبہ بندی،توڑ پھوڑ،جلائو گھیراو میں ملوث نہیں تھی۔