وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا کا نوبل امن انعام بیٹی نے وصول کرلیا

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا کا نوبل امن انعام بیٹی نے وصول کرلیا

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور سابقہ سیاستدان ماریا کورینا ماچادو کو نوبل امن انعام 2025 سے نوازنے کا اعلان کیا گیا، اور یہ انعام ان کی بیٹی نے وصول کیا۔

 اس تقریب کا انعقاد اوسلو، ناروے میں ہوا، جہاں نوبل کمیٹی نے ان کی جمہوریت کے لیے پُرامن جدوجہد کو سراہتے ہوئے یہ اعزاز دیا۔تقریب میں ماریا کورینا ماچادو کا بیان پڑھ کر سنایا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی اور آزاد وینزویلا کے لیے اپنی کوششیں ترک نہیں کریں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی اور جمہوریت کے لیے ان کی لڑائی کبھی ختم نہیں ہوگی۔اس سے قبل، 2024 کے صدارتی انتخابات کے خلاف مظاہروں کے دوران، ماریا کورینا ماچادو روپوش ہو گئی تھیں اور بعد میں ناروے کے دارالحکومت اوسلو پہنچیں۔ نوبل کمیٹی نے انہیں یہ انعام جمہوریت کی پُرامن جدوجہد اور آمرانہ نظام سے جمہوریت کی پرامن منتقلی میں کردار ادا کرنے پر دیا۔

اس حوالے سے، ایک اہم سیاسی تناظر بھی موجود ہے۔ امریکہ کے وائٹ ہاؤس نے، جب سابق امریکی صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا، تو اس پر تنقید کرتے ہوئے نوبل کمیٹی پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے امن کے لیے اہم کردار ادا کرنے والے شخص کو نظر انداز کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ جنگیں روکنے، زندگیاں بچانے اور امن کو ترجیح دینے کے حوالے سے کام کرتے رہے ہیں، اور اس لیے ان کا نام بھی نوبل انعام کے لیے مناسب تھا۔مجموعی طور پر، یہ اعلان وینزویلا میں جمہوریت کی حمایت اور آزادی کے لیے جدوجہد کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کی ایک اہم علامت ہے، اور اس سے سیاسی حالات کے تناظر میں ایک پیغام بھی پہنچتا ہے کہ پرامن تبدیلی اور جمہوریت کی حمایت عالمی سطح پر اہمیت رکھتی ہے۔