رواں سال کا نوبل امن انعام وینزویلا کی سیاسی رہنما ماریا کورینہ کو جمہوریت، آزادیٔ اظہار اور انسانی حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد کرنے پر دیا گیا ہے۔
ماریا کورینا ماچادو، جو 7 اکتوبر 1967 کو کاراکاس میں پیدا ہوئیں، ایک انجینئر، سیاستدان، اور Vente Venezuela نامی سیاسی جماعت کی بانی ہیں، جو وینزویلا میں جمہوری اصلاحات کی داعی ہے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم وینزویلا میں حاصل کی اور بعد میں امریکا کی ییل یونیورسٹی سے عالمی پالیسی سازی میں تربیت حاصل کی۔ 2010 میں وہ وینزویلا کی قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں، جہاں انہوں نے بدعنوانی، آمریت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کی۔
سیاسی جدوجہد اور قربانیاں:
2014 میں، اقوام متحدہ میں وینزویلا کی نمائندگی کے دوران، انہوں نے حکومت پر تنقید کی، جس کے نتیجے میں اسمبلی کی رکنیت سے برطرف کر دی گئیں۔ اس واقعہ نے ان کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کیا، اور وہ آمریت کے خلاف سب سے توانا آواز بن گئیں۔انہوں نے ریاستی دباؤ، دھمکیوں اور نااہلی کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی، اور عوامی سطح پر انتخابی شفافیت، عدلیہ کی آزادی اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے مہمات چلائیں۔
عالمی اعزازات اور اثر و رسوخ:
ماریا کورینا ماچادو کو یورپی یونین کا سخاروف انعام برائے آزادیِ فکر (2024) اور Ivan Allen Jr. Prize for Social Courage (2025) سے نوازا گیا ہے۔بین الاقوامی برادری انہیں “لاطینی امریکا کی آئرن لیڈی” کہتی ہے، جو بغیر اقتدار کے بھی لاکھوں دلوں پر حکمرانی کر رہی ہیں۔انہوں نے ہمیشہ کہا ہے کہ “وینیزویلا کا مستقبل خوف سے نہیں، حوصلہ سے جیتا جائے گا۔”