سابق فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو پاکستان آرمی کے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔
یہ سزا اس وقت سنائی گئی جب عدالت نے ملزم کے خلاف مقدمہ کی سماعت مکمل کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ کارروائی پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کی گئی ہے، جس میں فوجی افسران کے خلاف مختلف الزامات پر مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا یہ عمل تقریباً 15 ماہ تک جاری رہا، جس دوران ملزم کے خلاف چار مختلف الزامات پر سماعت ہوئی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ، "فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے دوران، ملزم کے خلاف 4 الزامات پر کارروائی کی گئی، اور تمام قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد، عدالت نے فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔"یہ مقدمہ اور سزا فوجی عدالت کے ذریعے قانونی عمل کے تحت کی گئی ہے، اور اس کا مقصد فوج کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنا اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔