9 مئی کے تمام لوگ حبس بے جا میں رکھے گئے ہیں:بابر اعوان

9 مئی کے تمام لوگ حبس بے جا میں رکھے گئے ہیں:بابر اعوان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ڈاکٹر بابر اعوان نے 9 مئی کے واقعات میں گرفتار پارٹی رہنماؤں کی غیر قانونی حراست کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

 اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے پی ٹی آئی کے تمام کارکنان اور رہنما حبس بے جا میں رکھے گئے ہیں اور ان کے خلاف ابھی تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورٹ آف کرمنل پروسیجر کے مطابق 14 دن میں چالان پیش کرنا ہوتا ہے اور 17 دن میں فائنل ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن ڈیڑھ سال کا وقت گزرنے کے باوجود ابھی تک کچھ نہیں پیش کیا گیا۔

ڈاکٹر بابر اعوان نے حکومت کو اس صورت حال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اسے ایک جعلی نظام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ چیئرمین سینیٹ نے ذاتی طور پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ بے نظیر بھٹو کے دور میں مخالفین کو اسمبلی میں لا کر بٹھایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اعجاز چوہدری سمیت تمام اسیران "ضمیر کے قیدی" ہیں اور پی ٹی آئی نے سینیٹ چیئرمین کے دفتر میں ایک میمورینڈم جمع کروایا ہے جس میں سینیٹ کے رولز کا حوالہ دیا گیا ہے کہ سزا یافتہ شخص کو بھی سینیٹ میں طلب کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے سینیٹر اعجاز چوہدری کی غیر قانونی حراست پر بھی بات کی اور کہا کہ اعجاز چوہدری ایک صوبے کے منتخب نمائندے ہیں، لیکن انہیں ڈیڑھ سال سے پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے اس بات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب شہباز شریف پر 14 ارب روپے کا الزام تھا، تو انہیں فزیکل ریمانڈ کے باوجود عدالت میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا، لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے مطالبہ کیا کہ سینیٹر اعجاز چوہدری کا فوری پروڈکشن آڈر جاری کیا جائے کیونکہ ایک منتخب نمائندے کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا ہے۔