کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج ہوگا، جس میں ٹرانسپورٹرز اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھیں گے۔
گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے پیش رفت کی یقین دہانی کروائی تھی، لیکن مذاکرات کامیاب نہ ہونے کے سبب گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال جاری رکھی ہے۔صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ کے مطابق، ان کے مطالبات قانونی اور بنیادی مسائل سے متعلق ہیں، اور جب تک ان مطالبات کی منظوری نہیں ہوتی، ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال جاری رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف وعدوں پر ہڑتال ختم نہیں ہوگی، بلکہ عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے تاکہ مسائل کا مستقل حل نکل سکے۔انہوں نے وضاحت کی کہ ماضی میں حکومتی وعدے کیے گئے مگر وعدوں پر عملدرآمد نہیں ہوا، لہٰذا اب وہ کسی بھی جھانسے میں نہیں آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر واقعی مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو، مذاکرات کے ساتھ ساتھ وعدوں پر عمل درآمد بھی ضروری ہے، ورنہ ہڑتال جاری رہے گی۔ملک بھر میں جاری اس ہڑتال کے سبب اہم شاہراہوں پر مال بردار گاڑیاں روک دی گئی ہیں، اور سپلائی چین شدید متاثر ہے۔ پشاور سمیت صوبہ بھر میں ٹیکسز، غیر قانونی حراست اور زائد ٹول ٹیکسز کے خلاف احتجاج جاری ہے، جس کے باعث فیکٹریوں اور تجارتی مراکز تک اشیاء کی ترسیل رک گئی ہے۔