عالمی مارکیٹ سے بڑی خبر، سونے کی قیمت میں دوبارہ بلندیاں

عالمی مارکیٹ سے بڑی خبر، سونے کی قیمت میں دوبارہ بلندیاں

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد قیمتی دھات کی قیمت دو ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

 سرمایہ کاروں کی توجہ امریکا میں آنے والے مہنگائی کے اعدادوشمار اور امریکی مرکزی بینک کے ممکنہ شرح سود کے فیصلوں پر مرکوز ہے، جو مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اسپاٹ گولڈ کی قیمت ایک فیصد اضافے کے بعد 4,432.74 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جو 5 جون کے بعد سے سب سے بلند سطح ہے۔ اسی طرح، امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت میں بھی 1.7 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 4,492.60 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق، سونے میں موجودہ تیزی کی ایک بڑی وجہ ان سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری ہے جنہوں نے پہلے قیمت میں کمی کے دوران سونا خریدنے سے گریز کیا تھا۔ علاوہ ازیں، بعض سرمایہ کاروں کی جانب سے شارٹ پوزیشنز ختم کرنے اور محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافے نے بھی سونے کی قیمت کو سہارا دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی معاشی اور جغرافیائی حالات سونے کے حق میں رہیں تو درمیانی مدت میں اس کی قیمت مزید بلند ہو سکتی ہے۔ ٹونی سائکامور نے ممکنہ طور پر سونے کی قیمت 5,000 ڈالر فی اونس تک جانے کا بھی امکان ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب، امریکا میں بدھ کو صارف قیمتوں کے اعدادوشمار اور جمعرات کو پروڈیوسر پرائس انڈیکس جاری کیا جائے گا، جن سے امریکی شرح سود کی آئندہ سمت کے بارے میں اہم اشارے ملنے کی توقع ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکا میں روزگار کے کمزور اعدادوشمار کے بعد سرمایہ کاروں نے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم کر دیے تھے۔ جولائی کے اجلاس میں بھی امریکی مرکزی بینک نے شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق، شرح سود میں کمی یا اضافے کے امکانات کم ہونے سے عموماً سونے کو فائدہ ہوتا ہے کیونکہ سونا سود ادا نہیں کرتا، اس لیے کم شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش بڑھتی ہے۔فواد رزاق زادہ، مارکیٹ تجزیہ کار کے مطابق، اگر معاشی اعدادوشمار معیشت میں سست روی اور مہنگائی میں نمایاں اضافے کا مظاہرہ نہ کریں، تو شرح سود میں سختی کی توقعات کم رہیں گی، جس سے ڈالر پر دباؤ اور سونے کو مزید مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی عالمی مارکیٹ میں محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان کو متاثر کر رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ امن معاہدے کے مطالبات اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری قیمتی دھاتوں میں چاندی 0.9 فیصد اضافے کے بعد 66.30 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.7 فیصد اضافے کے بعد 1,765.26 ڈالر، اور پیلاڈیم 0.8 فیصد اضافے کے بعد 1,394 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں حالیہ سونے کی تیزی نے سرمایہ کاروں کی توجہ قیمتی دھات کی جانب دوبارہ مبذول کرا دی ہے، تاہم آئندہ دنوں میں امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار اور شرح سود سے متعلق توقعات سونے کی قیمت کی سمت کا تعین کریں گی۔