کربلا میں کلورین گیس لیک، 600 سے زائد زائرین عارضی طور پر اسپتال منتقل

کربلا میں کلورین گیس لیک، 600 سے زائد زائرین عارضی طور پر اسپتال منتقل

عراق کے مقدس شہر کربلا میں کلورین گیس کے اخراج سے فضا آلودہ ہو گئی، جس کے نتیجے میں 600 سے زائد زائرین کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں عارضی طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

عراقی وزارت صحت کے مطابق، کلورین گیس کے اخراج کے بعد 621 افراد دم گھٹنے اور سانس کی قلت کی شکایت کے ساتھ اسپتال لائے گئے، تاہم تمام متاثرین کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد صحت یاب ہو کر گھر بھیج دیا گیا۔یہ واقعہ کربلا اور نجف کے درمیان واقع ایک واٹر ٹریٹمنٹ اسٹیشن پر کلورین گیس لیک ہونے سے پیش آیا۔ یہ مقام اُن لاکھوں شیعہ زائرین کے گزرگاہ پر ہے جو امام حسینؓ اور حضرت عباسؓ کے مزارات کی زیارت کے لیے آتے ہیں، خاص طور پر اربعین کے موقع پر جب امام حسینؓ کی شہادت کی یاد میں بڑے پیمانے پر اجتماع ہوتا ہے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق، گیس لیک کا منبع پانی کے اس ٹریٹمنٹ اسٹیشن میں موجود کلورین سٹوریج یونٹ تھا۔ عراق میں طویل عرصے سے جاری تنازعات اور بدعنوانی کے باعث ملک کا انفراسٹرکچر خستہ حالی کا شکار ہے، جبکہ حفاظتی معیارات کی پاسداری میں بھی کمی پائی جاتی ہے، جو اس قسم کے واقعات کا باعث بنتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس کے اخراج کے بعد علاقے میں ایمرجنسی سروسز اور ریسکیو ٹیموں کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا، جبکہ واٹر ٹریٹمنٹ اسٹیشن کو عارضی طور پر بند کر کے حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔