پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں ایڈیشن کے آغاز سے قبل اسلام آباد میں ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ایک دلچسپ منظر پیش آیا، جب صحافی کے سوال نے قومی کرکٹ ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں بابراعظم اور محمد رضوان کو خاموش تماشائی بنا دیا۔
پریس کانفرنس میں تمام 6 فرنچائز ٹیموں کے کپتانوں کے ساتھ صحافیوں نے مختلف سوالات کیے، جن میں کھلاڑیوں کی کارکردگی اور مستقبل میں ٹیم کی قیادت کے حوالے سے بات کی گئی۔ اس دوران ایک رپورٹر نے بابراعظم اور محمد رضوان سے سوال کیا کہ کیا وہ پی ایس ایل کے میچز میں 200 یا اس سے زائد رنز کے ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے، بابراعظم نے محمد رضوان کی طرف اشارہ کیا، اور دونوں کھلاڑی خاموش رہے۔ اس پر لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوال کا جواب دیا۔ شاہین کا کہنا تھا کہ "پہلے تو بالرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اتنے رنز نہ بننے دیں، لیکن پھر بھی ہم کوشش کریں گے کہ ہدف حاصل کریں اور میچ جیتیں۔ ہماری کارکردگی کچھ عرصے سے کمزور رہی ہے، مگر پاکستان کی کرکٹ ٹیم ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم گرین شرٹس کو دوبارہ اوپر لے کر جائیں۔"
شاہین شاہ آفریدی کی جانب سے سوال کا جواب دینے کے بعد بابراعظم اور محمد رضوان کی خاموشی پر ان کی تنقید کی جارہی ہے۔ بہت سے افراد نے یہ سوال اٹھایا کہ دونوں کھلاڑی اس موقع پر کیوں خاموش رہے، جبکہ شاہین شاہ آفریدی نے نہ صرف سوال کا جواب دیا بلکہ ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے عزم کا اظہار بھی کیا۔شاہین شاہ آفریدی کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، کیونکہ انہوں نے نہ صرف اپنی ذمہ داری کو محسوس کیا بلکہ پریس کانفرنس کے دوران اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا۔ دوسری جانب بابراعظم اور محمد رضوان کی خاموشی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے دونوں کھلاڑیوں کو میڈیا اور عوامی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔