فن لینڈ کی 27 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر اولیویا اوراس کاسمیٹک طریقۂ کار کے دوران بے ہوشی کی دوا دیے جانے کے بعد انتقال کر گئیں۔
رپورٹس کے مطابق واقعہ ہیلسنکی کے ایک نجی بیوٹی کلینک میں پیش آیا۔ذرائع کے مطابق کاسمیٹک طریقۂ کار سے قبل اولیویا کو بے ہوشی کی دوا دی گئی، جس کے دوران وہ ہوش کھو بیٹھیں۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔اولیویا کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی بے ہوشی کی دوا دیے جانے کے بعد اسپتال میں زیرِ علاج تھیں جہاں وہ جانبر نہ ہوسکیں۔ والدین نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ممکنہ طور پر کلینک کی جانب سے کسی غلطی کے باعث یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ہیلسنکی پولیس کے مطابق اولیویا کی موت کے تین روز بعد واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کے لیے درخواست موصول ہوئی، جس کے بعد ممکنہ جرم کے پہلو سے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور واقعے کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
اولیویا اوراس نے 14 سال کی عمر میں انسٹاگرام کا آغاز کیا تھا اور کم عمری میں ہی ہزاروں فالوورز حاصل کرلیے تھے۔ 2016 میں دستاویزی فلم ’دی پرفیکٹ سیلفی‘ کے ذریعے انہیں مزید شہرت ملی، جس میں تقریباً ڈیڑھ سال تک سوشل میڈیا کے ساتھ ان کے تعلق کو دکھایا گیا تھا۔بعد ازاں اولیویا نے اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ غیر فعال کردیا اور 2017 میں ایمسٹرڈیم منتقل ہوگئیں۔ فن لینڈ واپسی کے بعد انہیں نیند کی گولیوں اور شراب کی لت کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے علاج کرایا اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام جاری رکھا۔