وزیراعظم نے نئی آٹو پالیسی کی منظوری دیدی‘ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر آئندہ 5 سال میں ٹیکس میں 20 فیصد کمی کی تجویز ‘پالیسی آئی ایم ایف سے شیئر کی جائے گی

 سالانہ50کروڑآمدن پر سپرٹیکس ختم بینک کسانوں، ایس ایم ایز اور ہاؤسنگ سیکٹر کو آسان قرضے دیں:شہباز شریف
 ان برآمد کنندگان کو سپر ٹیکس سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا جن کی مجموعی آمدن کا کم از کم 80 فیصد حصہ ایکسپورٹ پروسیڈز پر مشتمل ہو‘عام ٹیکس دہندگان کیلئے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی
 زرعی شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی   کی ہے، ترقی کیلئے  اقدامات قومی ذمہ داری ہیں،  کسانوں کو مالی وسائل تک آسان اور بلا رکاوٹ رسائی فراہم کی جائے :وزیراعظم کی   ایکسیس ٹو فنانس پلا ن کے جائزہ اجلاس میں گفتگو
وزیراعظم  سے نو منتخب وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر  افتخار علی گیلانی کی ملاقات‘آزاد کشمیر کی عوام کی فلاح و بہبود کیلئے حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گی:شہباز شریف  
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں) وفاقی حکومت نے ملکی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ایکسپورٹرز کو بڑا ریلیف فراہم کرتے ہوئے سپر ٹیکس کے خاتمے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے، جس کا تفصیلی نوٹیفکیشن فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) نے جاری کر دیا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ ترامیم فنانس ایکٹ 2026 کے تحت متعارف کروائی گئی ہیں، جن کا اطلاق ٹیکس ایئر 2027 سے ہوگا۔ ریلیف حاصل کرنے کے لیے برآمدی کارکردگی کی شرائط مقرر کی گئی ہیں۔نوٹیفکیشن کیمطابق ٹیکس ایئر 2027 سے ان برآمد کنندگان کو سپر ٹیکس سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا جن کی مجموعی آمدن کا کم از کم 80 فیصد حصہ ایکسپورٹ پروسیڈز پر مشتمل ہو۔ سالانہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن رکھنے والے ایکسپورٹرز بھی اس چھوٹ کے حقدار ہوں گے بشرطیکہ وہ 80 فیصد کی برآمدی شرط پوری کریں۔عام ٹیکس دہندگان کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔ سالانہ 50 کروڑ روپے سے زائد کمانے والے عام ٹیکس دہندگان سے اب 8 فیصد کے حساب سے سپر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔سالانہ 50 کروڑ روپے تک کی آمدن والے عام ٹیکس دہندگان پر عائد سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق بینکنگ کمپنیوں اور کھاد (فرٹیلائزر) کی فروخت سے منافع حاصل کرنے والے اداروں پر 10 فیصد سپر ٹیکس کی شرح بدستور برقرار رہے گی۔ اس کے علاوہ ففتھ شیڈول کے تحت آنے والے مخصوص ٹیکس دہندگان بھی 10 فیصد ہی سپر ٹیکس ادا کریں گے۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ سپر ٹیکس کی چھوٹ کا براہِ راست تعلق ایکسپورٹ سے جوڑا گیا ہے تاکہ صرف فعال برآمد کنندگان ہی اس رعایت سے مستفید ہو سکیں۔

دوسرا انٹرو لیڈ
اسلام آباد(آئی این پی)وزیراعظم شہباز شریف نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کی اصولی منظوری دیدی۔ذرائع نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی اب آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی جائے گی، آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد آٹو پالیسی ای سی سی میں پیش کی جائے گی۔ کابینہ کی منظوری کے بعد نئی آٹو پالیسی پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی،   شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں ایک عرصے سے زیر التوا نئی آٹو پالیسی 2026-31 کے مسودے پر غور کیا گیا۔نئی آٹو پالیسی کا مقصد مقامی آٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری، گاڑیوں کی برآمدات، مقامی پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق نئی آٹو پالیسی میں ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر آئندہ 5 سال میں ٹیکس میں 20 فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ 851 سے 1000 سی سی اور 800 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی آئندہ 5 سال میں ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔پالیسی ڈرافٹ کے تحت 1800 سی سی سے زائد ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر آئندہ 5 سال کے دوران ٹیکس میں مرحلہ وار کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ 1801 سی سی سے زائد ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی 5 سال میں مرحلہ وار 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جبکہ 1501 سے 1800 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد تک لانے کی تجویز زیر غور ہے۔دریں اثنائوزیراعظم محمد شہباز شریف نے بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ کسانوں، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) اور ہاؤسنگ سیکٹر کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی میں بھرپور کردار ادا کریں، جبکہ حکومت قرضوں کی فراہمی میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کرے گی‘کہ کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستی رہائش، کسانوں کو آسان شرائط پر قرضوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو مالی سہولتوں کی فراہمی    ہماری ترجیح ہے۔  وزیراعظم کی زیر صدارت اسلا مآباد میں  ایکسیس ٹو فنانس پلان2026-28 کے جائزہ اجلاس میں وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام، زراعت اور چھوٹے و درمیانے کاروباری شعبے کے لئے قرضوں کی فراہمی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی ترقی کیلئے  اقدامات قومی ذمہ داری ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کسانوں کو مالی وسائل تک آسان اور بلا رکاوٹ رسائی فراہم کی جائے۔شہباز شریف نے کہا کہ کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے صوبائی چیف سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ ایسی جائیدادوں کا جامع سروے کیا جائے جنہیں وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت گھر بنانے کے خواہش مند افراد کو بینک قرض فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے‘علاوہ ازیں شہباز شریف سے آزاد جموں و کشمیر کے نو منتخب وزیراعظم سید افتخار علی گیلانی نے ملاقات کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سید افتخار علی گیلانی کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران آزاد جموں و کشمیر کے امن، ترقی اور خطے میں جاری فلاحی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت پاکستان، حکومت آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت کشمیری بھائیوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی۔