7 ارب ڈالر قرض پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ ہوسکتا ہے:آئی ایم ایف‘ چینی کی درآمد فوڈ ایمرجنسی کے تحت کی جا رہی ہے:حکومت‘عالمی ادارے نے وضاحت مسترد کردی
حکومت نے 3 لاکھ کے بجائے پہلے مرحلے میں 50 ہزار میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا ٹینڈر جاری کردیا‘شوگر ملز ایسوسی ایشن کی رانا تنویر سے ملاقات‘ چینی سستی کرنے کی یقین دہانی
اسلام آباد‘کراچی ( آن لائن‘آئی این پی ) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے چینی کی درآمد پرٹیکس چھوٹ دینے پر تحفظات ظاہر کردیے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ایسے اقدامات سے 7 ارب ڈالر قرض پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے تحفظات پر حکومت نے مؤقف اختیار کیا چینی کی درآمد فوڈ ایمرجنسی کے تحت کی جا رہی ہے تاہم آئی ایم ایف نے حکومتی وضاحت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چینی درآمد پر ٹیکس چھوٹ آئی ایم ایف معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے‘دریں اثناء حکومت کی جانب سے چینی کی درآمد کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، حکومت نے 3 لاکھ کے بجائے پہلے مرحلے میں 50 ہزار میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا ٹینڈر جاری کردیا۔ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نظر ثانی شدہ ٹینڈر میں کہا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں 3 لاکھ کے بجائے فی الحال 50 ہزار میٹرک ٹن چینی منگوائی جائے گی‘علاوہ ازیں شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت کو چینی کی 165 روپے ایکس مل قیمت کی یقین دہانی کرادی اور کہا ہے کہ تین دن میں چینی کی قیمت میں کمی نظر آئے گی۔رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی زیر صدارت چینی کی قیمتوں سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور سینئر ممبران نے شرکت کی۔اجلاس میں چینی کی ایکس مل قیمت کے مثر نفاذ اور فوری فراہمی پر تفصیلی غور کیا گیا۔