یہ پہلا موقع ہے کہ پورے فلسطینی وفد کو امریکا میں داخلے سے روکا گیا ہے
فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے سے متعلق تاریخی فیصلوں کی توقع ہے
واشنگٹن (آئی این پی) امریکا نے فلسطینی وفد کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد عالمی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور مطالبات بڑھ گئے ہیں کہ آئندہ اجلاس نیویارک کے بجائے جنیوا میں منعقد کیا جائے۔دی گارجین کے مطابق امریکی حکام نے فلسطینی صدر اور ان کے ہمراہ آنے والے پورے وفد کو ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں فلسطینی قیادت جنرل اسمبلی کے اس اہم اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے گی جہاں فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے سے متعلق تاریخی فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ پورے فلسطینی وفد کو امریکا میں داخلے سے روکا گیا ہے۔ اس سے قبل 1988 میں بھی امریکی انتظامیہ نے پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات کو نیویارک آنے سے روک دیا تھا، تاہم اس بار صورتحال اس سے کہیں زیادہ غیر معمولی ہے کیونکہ فلسطینی تاریخ کے ایک نازک موڑ پر انہیں اجلاس سے الگ کر دیا گیا ہے۔اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس 29 ستمبر تک جاری رہے گا