پولنگ کا عمل پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت میں ہوا‘ایک ووٹ مسترد ‘اپوزیشن نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا‘ ن لیگ کی سینیٹ میں 21 نشستیں ہوگئیں
پی ٹی آئی کے12ارکان مجھے ووٹ دینا چاہتے تھے میں نے منع کردیا‘شہباز شریف جو بھی ذمہ داری دیں گے اس کو دیانت داری سے نبھائوں گا:رانا ثناء اللہ
لاہور(سپیشل رپورٹر)پی ٹی آئی رہنما اعجاز چودھری کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی سینیٹ نشست پر ضمنی انتخاب میں رانا ثنا اللہ سینیٹر منتخب ہو گئے۔رانا ثنا اللہ 250 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، پولنگ صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہی، اس دوران 251 ووٹ کاسٹ ہوئے، ایک ووٹ مسترد ہوا۔پولنگ کا عمل پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت میں ہوا، مسلم لیگ (ن)اور حکومتی اتحادی جماعتوں کی جانب سے رانا ثنا اللہ امیدوار تھے جبکہ اپوزیشن نے اعجاز چودھری کی اہلیہ سلمی اعجاز کو نامزد کیا تھا۔رانا ثنا اللہ کی جیت کے بعد ن لیگ کی سینیٹ میں 21 نشستیں ہوگئیں، پیپلز پارٹی کی 26 اور پی ٹی آئی کی 21 نشستیں ہیں ، اپوزیشن نے انتخابی عمل کا مکمل بائیکاٹ کیا‘سینیٹ الیکشن میں کامیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا پی ٹی آئی کے12ارکان مجھے ووٹ دینا چاہتے تھے میں نے منع کردیا‘انہوں نے کہا تحریک انصاف نے سیاسی اور جمہوری پراسییس کا بائیکاٹ کرکے الیکشن سے راہ فرار اختیار کی،شہباز شریف جو بھی ذمہ داری دیں گے اس کو دیانت داری سے نبھائوں گا، میں پہلے بھی اپنی ذمہ داری دیانت داری سے سرانجام دے رہا ہوں تحریک انصاف نے اپنے کاغذات داخل کیے، پڑتال کا پراسیس مکمل کیا پھر وہ ہائیکورٹ چلے گئے اسٹے لینے کے لئے، جب تحریک انصاف کو ہائیکورٹ سے ناکامی ہوئی تو انھوں نے بائیکاٹ کا راستہ اختیار کرلیا‘انہوں نے کہا بانی پی ٹی آئی سیاست میں اوئے توئے اور گالم گلوچ کا کلچر لانے والے واحد لیڈر ہیں، اور ان کی جماعت کا موجودہ طرزِ عمل سیاسی نہیں بلکہ انتشار پھیلانے والا ہے