لاہور ہائیکورٹ، 8سال بعد اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ اور ڈگری کالعدم قرار

جائیداد کے ہبہ تنازع کا کیس دوبارہ فیصلے کے لیے اپیلٹ کورٹ کو واپس بھیج دیا گیا 
لاہور(آئی این پی )لاہور ہائیکورٹ نے 8 سال بعد اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ اور ڈگری کالعدم قرار دیتے ہوئے جائیداد کے ہبہ تنازع کا کیس دوبارہ فیصلے کے لیے اپیلٹ کورٹ کو واپس بھیج دیا ۔ فیصلے کے مطابق ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں سنگین قانونی اور بنیادی نقائص موجود ہیں،ہبہ نامے کی تصدیق کے لیے قانون شہادت کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، فریقین کا موقف سن کر قانون کے مطابق دوبارہ فیصلہ کیا جائے، جرح کا حق دیے بغیر درخواست گزار کے خلاف بیان استعمال نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس عاصم حفیظ نے عیداللہ حسن کی سول نظرثانی درخواست پر فیصلہ جاری کیا،درخواست منظور کرتے ہوئے پانچ صفحات پر مشتمل جاری کیا گیا فیصلہ عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔درخواست گزار نے موقف اختیارکیاکہ دفعہ 12(2) کی درخواست کے لیے کبھی وکیل مقرر نہیں کیا۔ فیصلے کے مطابق وکیل کے وکالت نامے اور درخواست پر درخواست گزار کے دستخط کی تصدیق نہیں کرائی گئی، ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ نے مقدمے کے بنیادی تنازع کا درست تعین نہیں کیا،قانونِ شہادت کے آرٹیکل 140 کے تحت جرح کے دوران متعلقہ فریق کا سامنا ضروری ہے،دھوکہ دہی یا فراڈ سے حاصل کردہ فیصلوں پر قانونِ شہادت کا آرٹیکل 58 لاگو ہوتا ہے۔ہائیکورٹ نیقانونِ شہادت کے آرٹیکل 79 کے تقاضے پورے کیے بغیر ہبہ نامے کی تصدیق پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔