خیبر پختونخوا میں گورنر راج آخری آپشن ہوگا‘سہیل آفریدی کی کوشش ہے لگے بلاول بھٹو

وزیراعلیٰ  سے پوچھنا چاہیے  وہ گورنر راج  یا ایمر جنسی کیوں چاہتے ہیں،  افغانستان کی طرف سے ہم جنگی حالات میں ہیں، پی ٹی آئی کو انتہا پسندی کی سیاست چھوڑنی ہوگی
خیبرپختونخوا میں سیاسی جماعت نفرت کی سیاست کر رہی ہے،ہمارا کردار مثبت ہے‘ انتہاپسندی کی جانب جانے کا سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کو ہو رہا  ہے:کراچی میں خطاب
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا  ہے ہم نہیں چاہتے ایمرجنسی یا گورنر راج لگے، لگتا ہے وزیراعلیٰ کے پی کی کوشش ہے گورنر راج لگے، وزیراعلیٰ کے پی سے پوچھنا چاہیے کہ وہ گورنر راج کیوں چاہتے ہیں،  افغانستان کی طرف سے ہم جنگی حالات میں ہیں،وزیراعلیٰ کے پی کے کردار کی وجہ سے ایسے حالات ہیں کہ ایمرجنسی لگے۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بلدیہ ٹاؤن میں سپورٹس کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے ایک اور منصوبے کی افتتاحی تقریب میں یہاں موجود ہوں، پہلے ہم نے ٹی پی ون پانی کے منصوبے کا افتتاح کیا،سی ایم صاحب تھر پارکر بھی  لے کر گئے تھے، وہاں تھرکول بلاک دو کے تیسرے حصے کا افتتاح کیا تھا، ڈسٹرکٹ کیماڑی میں سپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کر رہا ہوں، کراچی کینوجوانوں کو مبارکباد دینا چاہوں گا کہ ان کیلئے اپنا سپورٹس کمپلیکس بنایا گیا ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھا کہ میں اس منصوبے کے افتتاح پر بہت خوش ہوں، ہم چاہتے ہیں ہمارے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیاں ملیں، بلدیاتی نظام نے کراچی کے نوجوانوں کیلئے سپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کا موقع دیا ، میئر صاحب جب بھی تقریر کرتے ہیں میں ایک نیا الفاظ سیکھ جاتا ہوں، آج لفظ سیکھا ہے بلدیہ عظمیٰ، کچھ سیاسی قوتیں شہر کے نوجوانوں کو کرمنل بنانا چاہتی ہیں، نواجونوں کو جرائم میں ملوث کبھی نہیں دیکھنا چاہتے۔ پیپلزپارٹی شہرمیں منفی سیاست کے بجائے مثبت سیاست کرنا چاہتی ہے، باقی سیاسی جماعتیں اس شہرمیں نفرت اور تقسیم کی سیاست چاہتی ہیں، خیبرپختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں،خیبرپختونخوا میں سیاسی جماعت نفرت کی سیاست کر رہی ہے،ہمارا کردار مثبت ہے ایک ہفتہ قبل خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی صورتحال تھی ، گورنرراج کاآپشن آئینی اور قانونی آپشن ہے،اسکوآخری آپشن کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تمام سیاسی معاہدے پر آچکے تھے،ایک صوبے کے وزیراعلیٰ نے ڈائیلاگ کو چھوڑ کر منفی سیاست پر زور  دیا، جب آپ انتہاپسندی کی سیاست کی طرف جائیں گے تو زیادہ مقبول ہونگے، انتہاپسندی کی جانب جانے کا سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کو ہو رہا  ہے، تحریک انصاف اپنے سپورٹرز کو مایوس کرتی رہتی ہے، پی ٹی آئی کو انتہا پسندی کی سیاست چھوڑنی ہوگی۔