صورتحال اتنی پیچیدہ بھی نہیں بات چیت کا راستہ مکمل طور پر بند ہوجائے،حکومت مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لینے کیساتھ لانگ مارچ کی صورتحال بھی دیکھ رہی ہے
صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کرے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں‘ملاقاتیں اور علاج جیل مینوئل کے مطابق طے ہونا چاہیے
اسلام آباد(آئی این پی )وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں فی الحال کسی بڑے بریک تھرو کی زیادہ امید نہیں تاہم حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان صورتحال اتنی پیچیدہ بھی نہیں کہ بات چیت کا راستہ مکمل طور پر بند ہوجائے۔ ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات ختم ہونے کے بعد بھی رابطے رہے ہیں، محسن نقوی کے پی ٹی آئی رہنمائوں سے رابطے ہیں جبکہ گوہر خان، عامر ڈوگر اور اسد قیصر سے بھی فون پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا اپنا سیاسی موقف ہے اور حکومت کا اپنا موقف، تاہم کسی سمجھوتے یا مفاہمت کے بغیر مذاکرات دوبارہ شروع کرنا زیادہ مفید نہیں ہوگا، اگر کسی معاملے پر مفاہمت بن جائے تو مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک طرف مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے تو دوسری جانب پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی صورتحال بھی دیکھ رہی ہے۔رانا ثنا اللہ نے خیبر پختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کی کامیابی کیلئے صوبائی حکومت کا کردار انتہائی اہم ہے، اگر صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں