پنجاب کے ایک ضلع میں ایک انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے جس میں نابینا خاتون کو مدد کے بہانے متعدد مہینوں تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس سے زبردستی بھیک منگوائی گئی۔
ملزم تاحال آزاد ہے اور اس کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے باوجود گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے۔متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ملزم نے اس کے ساتھ غلط فہمی پیدا کرکے اسے لاہور لے گیا، جہاں اس نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور اس سے طلائی زیورات، نقدی اور دیگر قیمتی اشیاء بھی چھین لیں۔ اس کے بعد ملزم نے نکاح کا جھانسہ دے کر سابق شوہر سے اس کی طلاق بھی دلوا دی۔ ظلم و ستم کے دوران، خاتون کو دھمکیاں بھی دی گئیں کہ اگر وہ کسی کو بتائے گی تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔خاتون نے اپنی کہانی میں بتایا کہ وہ کسی طرح فرار ہو کر اپنے علاقے بی پلاٹ پہنچ گئی، جہاں اس نے میڈیا کے ذریعے انصاف کا مطالبہ کیا۔ اس کے بیان کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور مقدمہ درج کیا گیا ہے، لیکن ملزم ابھی بھی آزاد ہے۔
نابینا خاتون نے اعلیٰ حکام اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ اس واقعہ کا نوٹس لیا جائے، ملزم کو فوری گرفتار کیا جائے اور اسے عبرتناک سزا دی جائے تاکہ معاشرے میں انساف کا پیغام جائے۔ اس واقعہ نے علاقہ میں تشویش اور غم و غصہ پیدا کر دیا ہے، اور عوام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے انسانیت سوز واقعات کے خلاف آواز بلند کریں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی تلاش جاری ہے اور جلد ہی اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر انسانی حقوق اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری کو اجاگر کرتا ہے۔