وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک ورچوئل خطاب کے دوران پاکستان میں سعودی سرمایہ کاروں کا استقبال کیا اور کہا کہ حکومت سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کا ویژن 2030 دنیا میں منفرد مقام حاصل کر رہا ہے، اور پاکستان اس سے بہت کچھ سیکھ رہا ہے، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو فروغ مل رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تین بڑی عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستانی معاشی اشاریوں کو مثبت قرار دیا ہے، جو کہ ملک میں معاشی رجحان کے بہتر ہونے کی علامت ہے۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اب برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔
مزید براں، انہوں نے کہا کہ توانائی اور ٹیکس کے شعبوں سمیت دیگر معاشی شعبوں میں بنیادی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، اور یہ اصلاحات متعلقہ فریقین کے مشورے سے آگے بڑھے گی۔ حکومت کی ان کوششوں کے نتیجے میں ملک نے معاشی استحکام حاصل کیا ہے۔
اس کے علاوہ، انہوں نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی بحالی کے چیلنج کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر، وزیر خزانہ نے معیشت میں بہتری اور اصلاحات کے ذریعے ملک کے مستقبل کے لیے مثبت پیغام دیا۔