سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری کے لیے اجلاس جاری ہے، جس کی صدارت چیئرمین یوسف رضا گیلانی کر رہے ہیں۔
قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے اس ترمیم کا مسودہ اور رپورٹ سینیٹ میں پیش کی، جس میں کچھ ترامیم کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ کے پاس از خود نوٹس کا اختیار محدود کرنے اور ججز کی ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ ٹرانسفر کے نظام میں اصلاحات کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، صدارتی استثنیٰ کو بھی محدود کرنے کا پلان ہے، خاص طور پر پبلک آفس ہولڈرز کے لیے۔
اجلاس کے دوران، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئین میں ترامیم سے متعلق تجاویز پر کام کیا جا رہا ہے، اور ججز کے ٹرانسفر کے طریقہ کار میں شفافیت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف، مسلم لیگ ن کے سینیٹر آغا شاہزیب درانی نے تنقید کی کہ اپوزیشن کو ترمیمات کے بارے میں معلومات نہیں دی گئی، اور کہا کہ دیگر ممالک میں بھی آئینی عدالتیں موجود ہیں، مگر مسئلہ پاکستان میں کیوں ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 2022 میں انہوں نے خود قانون میں ترمیم کی، اور اس وقت جمہوریت کی حالت کا ذکر کیا۔ اس دوران، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے صحافیوں نے سینیٹ میں نمبر پورے ہونے اور جان بلیدی کی رضامندی کے بارے میں سوالات کیے، جن کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ووٹنگ کے بعد ہی حقیقت کا پتہ چلے گا۔