بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے جہاں آراء کے ہراسانی الزامات کی تحقیقات کا آغاز کیا

بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے جہاں آراء کے ہراسانی الزامات کی تحقیقات کا آغاز کیا

بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ویمن کرکٹر جہاں آراء کی جانب سے ہراسانی کے الزامات کی تحقیقات کے بعد سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

 بی سی بی کے صدر امین الاسلام نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں، تو کسی بھی فرد، اسٹاف یا ڈائریکٹر کے خلاف کارروائی کی جائے گی، کیونکہ بورڈ کا اصول ہے کہ ہراسانی کے معاملے میں زیرو ٹالرنس ہے۔بی سی بی کے مطابق، انہوں نے خاتون کھلاڑی جہاں آراء کے الزامات پر کارروائی شروع کر دی ہے، اور اس سلسلے میں چند آفیشلز کو او ایس ڈی (آفیشلز سپیشل ڈیوٹیز) بنا دیا گیا ہے۔ سی ای او نظام الدین چوہدری کا کہنا ہے کہ ان افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جنہیں الزامات کا سامنا ہے، اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک بی سی بی ڈائریکٹر پر بھی الزامات لگائے گئے ہیں۔

یہ الزامات اور کارروائی اس وقت سامنے آئی ہے جب کہ بنگلادیشی میڈیا رپورٹ کے مطابق، 2021ء میں کھلاڑی جہاں آراء عالم نے ہراسانی سے متعلق ایک خط لکھا تھا۔ اس معاملے پر 2025 میں کارروائی شروع کیے جانے پر تنقید بھی کی جا رہی ہے، کیونکہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ یہ تحقیقات کیوں تاخیر کا شکار رہیں۔مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ، الزامات کی مکمل تحقیقات تک، سی ای او اور ڈائریکٹر کو او ایس ڈی بنانے کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔ اس واقعہ نے بنگلادیشی کرکٹ کے ادارے میں ہراسانی کے خلاف سخت موقف اپنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے عزم کو ظاہر کیا ہے۔