اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ایک اہم بیان دیا ہے، جس میں انہوں نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔
اس موقع پر، وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے سینیٹ کے ارکان کے لیے ناشتے کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں حکومت اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کو مدعو کیا گیا۔ اس دوران، پارلیمنٹ ہاؤس کے بینکوئیٹ ہال میں ناشتے کے انتظامات مکمل کیے گئے اور اس موقع پر اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز سے ملاقات بھی ہوئی۔ذرائع کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف سینیٹ میں ستائیسویں آئینی ترمیم کی حمایت کرنے پر اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کا شکریہ ادا کریں گے۔ اس دوران، وفاقی کابینہ کے ارکان کو بھی ناشتے میں مدعو کیا گیا، جہاں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ آئینی ترمیم کے حوالے سے بریفنگ دیں گے۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اس موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔
صحافیوں نے ان سے سینیٹ میں نمبرز کے بارے میں سوالات کیے، جن میں سے ایک یہ تھا کہ کیا سینیٹ میں مطلوبہ نمبرز پورے ہو چکے ہیں۔ ایک اور سوال یہ بھی تھا کہ کیا جان بلیدی صاحب مان گئے ہیں۔ اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ جب ووٹنگ ہوگی، تب پتا چل جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عرفان صدیقی صاحب شدید بیمار ہیں۔جب صحافیوں نے نمبرز کے سوال پر پوچھا کہ کیا نیشنل پارٹی آئینی ترمیم کی حمایت کرے گی، تو اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ آپ کو پتا چل جائے گا جب ووٹنگ ہوگی۔ اس موقع پر، پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت کی تشکیل وقت کی ضرورت ہے اور ملٹری کمانڈ کے معاملے پر طویل مشاورت کی گئی ہے۔