سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
نوجوان اب دہلی کے وعدوں پرنہیں،اپنی خودی کے عزم پریقین رکھتے ہیں۔لداخ کے نوجوانوں کی آنکھوں میں اب وہ خواب نہیں جودہلی نے دکھائے تھے،بلکہ وہ عزم ہے جوخودان کے دل نے تراشاہے۔وہ سونم وانگچک کوایک رہنمانہیں،اپنے وجودکی علامت سمجھتے ہیں۔وانگچک ان کیلئے ایک تحریک نہیں بلکہ ایک آئینہ ہیں۔یہی نوجوان تحریک کے زندہ ضمیرکی دھڑکن اور حقیقی ترجمان ہیں۔
جب مطالبات آئینی اورقانونی ہوں،اورجواب میں گولی ملے،توسوال یہ نہیں رہتاکہ حکومت ظالم ہے یانہیں بلکہ آئین خودسوال بن جاتا ہے کہ آئین کس کاہے؟عوام کایااقتدار کا ؟ یہی لداخ کی داستان ہے۔جوحکومت آئین کاسہارالے کرظلم کرے،وہ دراصل آئین کی روح سے بغاوت کرتی ہے۔لداخ کے نوجوان اپنی زمین،اپنے آکاش،اپنے دریا کے محافظ ہیں۔ان کامطالبہ محض قانون نہیں بلکہ فطرت کے حق کی بازگشت ہے۔وہ کہتے ہیں:جوہوا،جوپانی،جومٹی ہماری ہے،اس پرغیرکاحکم کیسے چلے؟ان کانعرہ: ’’ہمارا آسمان ، ہمارا قانون۔‘‘یہی وہ صدائے خودی ہے جسے دہلی سننانہیں چاہتی۔یہی شیڈول6کافلسفہ ہے خودمختاری نہیں،خودی کی حفاظت۔
لداخ کایہ خوف بجاہے کہ سرمایہ داری کاسیلاب اس کی تہذیب اورلداخ کے پہاڑوں کوبہا نہ لے جائے۔تین لاکھ کی آبادی اگرلالچ کی سیاست میں پِس گئی تویہ پہاڑانسانیت کی قبریں بن جائیں گے۔یہ خطہ اگرکارخانوں کی دوڑمیں پِس گیاتوفطرت کا ایک حسین ورق مٹ جائے گالہذاان کی پکاردراصل زمین کے حق میں زمین کی آوازہے۔
دیسکِت انگموکی بات میں عورت کی فطری بصیرت جھلکتی ہے۔وہ کہتی ہیں،ہم تشددکے نہیں،سچ کے طلبگارہیں۔ہم عدالتی تحقیقات چاہتے ہیں تاکہ سچ سامنے آئے۔یہ جملہ لداخ
کے ماتھے پرنسائی وقارکاتاج ہے،یہ جملہ محض مطالبہ نہیں،تہذیب کی فتح ہے کہ احتجاج کے بیچ بھی انہوں نے عدم تشدد کاچراغ روشن رکھااورعدم تشددکی فتح کاپرچم تھام رکھاہے۔
جب رائے عامہ دو حصوں میں بٹ جائے توسچ ہمیشہ زخم بن کرابھرتاہے۔وانگچک کودشمن کہناآسان ہے،مگرسچ کاگلاگھونٹنامشکل۔ بی جے پی کے حامی انہیں غدارکہتے ہیں،مگرعوام انہیں وطن کاضمیرمانتے ہیں۔وانگچک کوغدارکہنے والے دراصل اپنی خوفزدہ سیاست کے حصارمیں ہیں مگردوسری آوازجوانہیں قومی مفادکامحافظ کہتی ہے،وہ دراصل انسانیت کی ضمیرکی گواہی ہے،جواب عالمی میڈیا میں بھی حق کی آوازبن کرابھررہی ہے۔
چیرِن دورجے کااعتراف ایک تاریخی طنزہے۔جنہوں نے آرٹیکل370کی منسوخی پرجشن منایاتھا،آج وہ پچھتاوے کے آنسوبہارہے ہیں۔ آج وہی کہتے ہیں:ہم اس آرٹیکل کے سائے میں زیادہ محفوظ تھے۔گویاتاریخ نے پلک جھپکتے میں جشن کوماتم کدہ بنادیا۔آرٹیکل370 ایک آئینی حصارتھا،جوریاست کی شناخت کانگہبان تھا۔جب وہ گرایاگیا تو لداخ،جموں،کشمیرسبھی بے لباس ہوگئے۔آرٹیکل370کاخاتمہ دراصل ریاستی خودی کی موت تھی۔اب زمین بکتی ہے،خواب بیچے جاتے ہیں،اورانسانی شناخت نیلام یاگروی رکھ دی گئیں ہیں۔
پھونسوک ستوبدن کاانتباہ گونجتاہے:یہ نہ بھولو:لداخ چین کی سرحد پرہے۔یہ انتباہ محض تجزیہ نہیں،ایک فکری وجغرافیائی خطرے کی گھنٹی ہے۔وہ یاددلاتے ہیں کہ لداخ چین کی سرحدپرہے اورجوسرحدی نگہبان ہیں،انہیں ناراض کرکے کوئی ریاست محفوظ نہیں رہ سکتی۔سرحدی عوام کوناراض کرناگویاآنکھوں پرپٹی باندھ کرجنگ میں کودناہے۔یہاں اگر وفاداری ٹوٹی،توبرفانی پہاڑ گواہ ہوں گے کہ وفاکوزبردستی نہیں خریداجاسکتا۔جب کسی علاقے کے فیصلے اس کے لوگوں کے بغیرکیے جائیں،توحکومت نہیں،استبدادجنم لیتاہے۔ غیر مقامی افسران کے ہاتھوں لداخ کانظم ونسق سپردکرناگویاکسی اجنبی کواپنے گھرکی چابیاں دیناہے،دوردرازکے افسران کولداخ کی تقدیرپرمسلط کرناایسے ہی ہے جیسے کسی اجنبی کوگھر کاسربراہ بنادیاجائے۔جمہوریت کے نام پرغلامی کانیاباب رقم کردیاگیاہے۔غیرمقامی حاکمیت پراعتمادنہیں کیا جاسکتا،اورنہ ہی یہ لداخ کی مجبوری کی علامت ہے۔
شیڈول6اب محض ایک سیاسی نعرہ نہیں رہا؛یہ دلوں کاعہداورعقیدہ بن چکاہے۔لداخ کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہماری زمین پرفیصلے دہلی نہیں،لیہہ کرے۔لداخ کے عوام دہلی سے نہیں،اپنے حقِ خودارادیت سے جڑے ہیں۔یہ مطالبہ مرکزگریزنہیں،مرکزسے انصاف کی طلب ہے۔1949کی آئینی شقیں جن کاتعلق شمال مشرق سے تھا،اب لداخ کیلئے بھی امیدبن گئی ہیں اوریہی آئینی اصول اب لداخ کیلئے رہنمائی کا چراغ ہیں۔عوام چاہتے ہیں کہ قانون ان کے ہاتھ میں ہو،اورفطرت ان کی محافظ۔یہاں کے لوگ وہی خود اختیاری چاہتے ہیں جوآسام اور میگھالیہ کوملی یعنی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ قانون سازی۔وہ کہتے ہیں:ہمارے پہاڑہمارے قانون کے تابع رہیں۔شیڈول6کی رعایتیں آئینی خودی کی روح ہیں۔آرٹیکل371کاوعدہ دہلی نے کیا،مگریقین دلانے کے باوجودمودی حکومت نے اعتمادپارہ پارہ کردیا۔آرٹیکل371کے وعدے ادھورے رہے،اسی لیے یقین بغاوت میں بدل گیا۔یہی وجہ ہے کہ اب رعایت نہیں،ضمانت مانگی جا رہی ہے۔لداخ کی بغاوت دراصل اس یقین کی تلاش ہے جوسیاست نے چھین لیا۔اب لداخ کامطالبہ رعایت نہیں،یقین کی بحالی ہے۔
جب اندرکی بغاوت کودبایانہ جاسکے توبیرونی دشمن تراشے جاتے ہیں۔مودی حکومت جب اندرونی محاذہارتی ہے توبیرونی دشمنوں کے سائے بڑھادیتی ہے۔مودی کی زبان سے پاکستان کوگھن گرج دراصل داخلی ناکامی کی گونج ہے۔پاکستان سے جنگ کی دہمکیاں سیاسی کمزوری کالبادہ ہیں۔جنگ کاشور،امن کی قبروں پربجایاجانے والاطبلہ ہے۔
پاکستانی فوج کی جوابی للکارخطے کی فضاکوپھرسے بارودآلودکرنے سے گریزکامشورہ دیتے ہوئے متنبہ کررہی ہے۔اب اگرآگ لگی تووہ صرف سرحدوں پرنہیں،دوردرازکاکوئی بھی کونہ محفوظ نہیں رہے گااوربقول مودی کے دل میں بھڑکنی والی آگ جواس کی روح پرقرض ہے،لیکن مودی یادرکھے کہ اب آگ دلوں میں ایسی بھڑکے گی کہ دھڑکنیں اپناراستہ بھول جائیں گی۔لداخ کے برف زاروں اور کشمیرکے چناروں سے لے کرغزہ کی گلیوں تک طاقت کے ہاتھوں روندے ہوئے انسانیت کے زخم ایک جیسے ہیں،مودی اوراس کا وزیر دفاع اورجنرل چوہان،سب نے برف زاروں کے اس خطے میں اب بارودکی بوگھول دی ہے اورامن کاجسم زخمی کردیاہے لیکن یادرکھیں کہ اب یہ وہی مئی والاپاکستان نہیں ہوگا کہ اپنے مربی اورآقاکے درپردہائی دیکرسیزفائرکروالیاتھابلکہ اب یہ نوبت نہیں آئے گی اوردنیامیں فقط واحد ہندوریاست کانام ونشان مٹ جائے گامگردرجنوں مسلم ممالک اس دنیاکے نقشے پرمزیدابھریں گے۔
سوال اب یہی ہے:کیامودی اپنی اقتدارکی بقاکیلئے جنگ کی بازی کھیل سکتاہے؟جب حکمران اپنے عوام کے خلاف صف آراہوجائے تو پھردشمن سرحدپارنہیں،محل کے اندرہوتا ہے ۔جب حکمران عوام کی آوازدبانے لگیں،توقومیں یاتوٹوٹ جاتی ہیں یاجاگ اٹھتی ہیں۔عالمی طاقتیں اس تماشے کودیکھ رہی ہیں،مگرشایدبھول گئیں کہ برف جب پگھلتی ہے تو سیلاب بن جاتی ہے۔اورکشمیر،لداخ سمیت دودرجن سے زائدتحریکیںلگتاہے جاگ چکی ہیں۔مودی کوبرسوں پرانے دوست سوویت یونین کانقشہ بھی ذہن میں رکھناہوگا۔
یہ لداخ کے احتجاج کی وہ ادبی تفسیرہے جومحض واقعات کابیان نہیں بلکہ ضمیرکی بیداری کی داستان ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم کے نیچے دبنے والاانسان کبھی ہمیشہ خاموش نہیں رہتا۔لداخ کی داستان محض ایک خطے کی بغاوت نہیں،بلکہ ایک ملک کے بکھرتے ضمیرکی بازگشت ہے۔یہ صرف برف پگھلنے کامنظر نہیں،بلکہ اقتدارکے غرورکے ٹوٹنے کی آوازہے۔ہندوستان،جوکبھی جمہوریت کااستعارہ سمجھاجاتاتھا،آج اپنی ہی جمہوری سانسوں پر بندوق تانے کھڑاہے۔آج مودی کے بھارت میں کسان دہلی کی سڑکوں پرمررہاہے،طلبہ یونیورسٹیوں میں قیدہیں،اقلیتیں خوف کے سائے میں سانس لے رہی ہیں،اورلداخ کے پہاڑ،جوکبھی امن کے محافظ تھے،اب انقلاب کے قاصدبن گئے ہیں۔
مودی کاہندوستان اب ایک نئی تقسیم کے دہانے پرکھڑاہے،نہ مذہب کی بنیادپر،نہ زبان کی،بلکہ انصاف اورناانصافی کی بنیادپر۔ایک طرف وہ طبقہ ہے جواقتدارکے طلسم میں مبتلا ہے،اوردوسری طرف وہ عوام جوبھوک،بے بسی،اوروعدہ خلافی کے بوجھ تلے کراہ رہے ہیں۔ان حالات میں جب مودی پاکستان کوجنگ کی دھمکیاں دیتاہے،تویہ دراصل اندرونی شکست کے پردے پرلٹکایاگیاجنگی پردہ ہے۔قومیں جب اپنے شہریوں کی آوازیں نہ سن سکیں،تووہ دشمن کی سرحدوں پرنعرے لگانے لگتی ہیں۔مگرلداخ کی برفانی ہوائیں دہلی کی گرم تقریروں سے متاثرنہیں ہوں گی۔
یہ بغاوت کوئی آنی جانی طغیانی نہیںیہ فطرت کی طرف سے ایک پیغام ہے کہ جب زمین کواس کے لوگوں سے چھیناجائے،جب ثقافت کوبازارمیں بیچاجائے،جب وعدوں کو گولیوں میں بدل دیاجائے،تو برف بھی سیلاب بن جاتی ہے۔لداخ اب بول اٹھاہے،جلد ہی ہندوستان کے دوسرے خطے بھی اپنی اپنی خاموشی توڑدیں گے۔تاریخ کی مٹی اب پھرایک کہانی لکھے گی جس کا عنوان ہوگا’’مودی کاہندوستان۔۔۔۔۔جبرسے بغاوت تک‘‘۔