سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کے صفحات پربعض اوقات برف پوش علاقے وہ صدائیں جنم دیتے ہیں جوآگ کے الاسے بھی زیادہ گرم ہوتی ہیں۔تاریخ کے افق پرجب بھی ظلم کی دھوپ اپنی تمازت سے انسانیت کوجھلسانے لگتی ہے،کہیں نہ کہیں بغاوت کاایک بادل اٹھتاہے۔کبھی خالصتان کی فکری للکارکی اورکبھی ناگالینڈ،منی پوراوردیگردرجن بھران مزاحمتی تحریکوں کی جوسارے بھارت میں ہندو سامراج سے جان چھڑانے کیلئے چل رہی ہیں۔آج وہی صداایک نئے نام کے ساتھ برف زاروں میں گونج رہی ہے۔
لداخ وہ خطہ جوہمالیہ کی برفیلی چوٹیاں اوڑھے بیٹھاتھااب احتجاج،بغاوت اورخودی کی بیداری کااستعارہ بن چکاہے۔یہ وہی لداخ ہے جہاں کبھی قوم پرستی کی نیندکے خواب دیکھے گئے تھے،مگرآج اس نیندکی تعبیر مودی کے ڈراؤنے خواب کی شکل اختیار کر چکی ہے۔یہاں کے پہاڑاب گونگے نہیں رہے،وہ دہلی کی سیاست کے خلاف صدائیں بن چکے ہیں ۔ آرٹیکل370کی منسوخی نے جس آئینی شاخ کوکاٹاتھا،اب وہاں پہلے سے مضبوط نئی جڑیں پھوٹنے لگی ہیں مگر لداخ کی بغاوت اکیلی نہیں۔بھارت کی فضاؤں میں آج کم ازکم دودرجن تحریکیں اسی صداکودہرارہی ہیں۔
مشرق میں ناگالینڈ،میگھالیہ،میزورم اورمنی پورکے قبائل دہلی سے خودمختاری مانگ رہے ہیں۔جنوبی ہندمیں تامل ناڈوکے نظریاتی گروہ اورآندھراپردیش کے علاقائی اتحادوفاقی اختیارات کی نئی تعبیرچاہتے ہیں۔کیرالہ،آسام،چھتیس گڑھ اورجھارکھنڈ میں مقامی آزادی کے نعرے دبے لفظوں میں نہیں،کھلے عام سنائی دے رہے ہیں۔ دلت تحریکیں،کسان یونینزاورطلبہ محاذسب ایک نئے اجتماعی اضطراب کی علامت بن چکے ہیں۔
یہ سب محض سیاسی اختلافات نہیں بلکہ ہندوستان کے اندرونی ضمیرکی بغاوتیں ہیںوہ ضمیرجومودی سرکارکے مصنوعی اتحاد کے پردے کوچیررہاہے۔مودی کی حکومت اب اس مقام پر آچکی ہے جہاں اس کے وعدوں کاجادوپاش پاش ہوچکاہے،اورجب جادو ٹوٹ جائے توجابراپنی شکست کوچھپانے کیلئے دشمن تراشتاہے۔اسی لیے آج دہلی کی زبان پرپاکستان کانام ہے،اسی لیے سرحدوں پرجنگ کی دہمکی دی جارہی ہے،تاکہ اندرکے شورکودبایاجاسکے لیکن تاریخ کے کان بہت تیزہوتے ہیں۔وہ سن رہی ہے کہ ہندوستان کے اندرونِ خاک اب آزادی کی نئی داستانیں لکھی جارہی ہیں اورلداخ ان میں سب سے تازہ اورخطرناک باب ہے۔
چین کی سرحد کے دامن میں واقع لداخ،جہاں صدیوں سے خاموش برفانی فضادلوں کی سردمہری کی تصویربنی رہی،آج یکایک آگ بن گئی ہے۔خاموش برف زاروں میں اچانک احتجاج کی وہ لہراٹھی جس نے چارجانوں کی قربانی سے تاریخ کانیاباب لکھ دیا۔وہی برف پگھل کراب احتجاج کی صورت میں بہنے لگی ہے۔چین کی سرحد کے قریب،یہ مظاہرے محض سیاسی ردِعمل نہیں بلکہ محکومی کے خلاف انسانی غیرت کی فطری بغاوت ہیں۔چارجانوں کی قربانی نے اس برف زارکولہوکی گرمی عطاکردی۔ہندوستانی افواج کی گولیوں نے نہ صرف جسموں کوچھیدابلکہ ریاستی جبرکی نقاب بھی چاک کردی۔
آج کی یہ آگ اور اضطراب دراصل اس چنگاری کاتسلسل ہے جو2019میں دہلی کی پارلیمان کے ایوانوں میں بھڑکی تھی۔جب پارلیمان نے آرٹیکل370کاجنازہ اٹھایا۔ آرٹیکل370کی تنسیخ کوجسے مودی کاماسٹراسٹروک کہاگیا،وہی اب ریاستی بدن پرزخم بن کر ابھررہی ہے اوروہ آجریاستی زخم بن کرلہوبن گیاہے۔سیاست کی وہ بازی جس میں آئینی حقوق کومہرے بنایاگیا،آج انسانی ضمیرکی عدالت میں زیرِسماعت ہے۔
78 برس سے وادی کشمیرظلم کی سیاہ رات میں ڈوبی ہوئی ہے،پندرہ ہزارکشمیری نوجوانوں کی گمشدگی نے اس خطے کے دل میں خاموش انتقام کی لوجلادی ہے،پندرہ ہزارنوجوانوں کی گمشدگی صرف اعدادنہیں،بلکہ ضمیرکی قبرپرکھڑی شمشان کی مشعلیں ہیں۔کشمیرکے مظلوموں کے بعداب لداخ کی خاموش فضاؤں نے زبان پائی ہے مگرلداخ میں یہ طوفان دبے دبے قدموں سے بغاوت کی شکل اختیارکرچکی ہے۔پرسکون پہاڑوں کے نیچے بے چین دلوں کی دھڑکنیں سنائی نہ دیتی تھیں،مگراب وہ صدائے احتجاج بن کرگونج رہی ہیں۔پانچ اگست2019کادن ہندوستانی جمہوریت کے صفحات پرایک سیاہ ترین اوربدبودارسنگِ میل کے طورپردرج ہوچکاہے ،جموں و کشمیرکودوحصوں میں بانٹ کردہلی نے گویااس تاریخ کودولخت کردیاجوکبھی ایک وحدت تھی۔صرف جموں وکشمیرکوہی نہیں بانٹاگیا بلکہ لداخ کواسمبلی سے محروم کردیاگیا۔لداخ کواسمبلی سے محروم ایک یونین ٹیریٹری بناناایساہی تھاجیسے کسی بدن سے روح نکال کراس پرنظم ونسق کے لبادے ڈال دیے جائیں۔یہ محض انتظامی تقسیم نہیں تھی،بلکہ ایک تہذیبی شناخت کی توڑپھوڑتھی۔
لداخ کے لوگوں کی فریادیہ نہیں کہ انہیں کوئی نیاتاج دیاجائے،بلکہ یہ ہے کہ ان کی شناخت کی بقاکی ضمانت دی جائے۔وہ شیڈول6 کے سایے میں اپنے ماحول،اپنی ثقافت اور اپنی زمین اوراپنی فضاکی امان چاہتے ہیں۔یہ مطالبہ دراصل بقاکی پکارہے،نہ کہ بغاوت کی۔ یہ مطالبہ دراصل جینے کاحق ہے،سیاست کانہیں لیکن مودی کے ظالمانہ رویہ نے لداخ کے عوام کواپنی بنیادی زندگی کے حقوق کی پہچان کروادی ہے اوروہ اب اس ظالمانہ الحاق سے جان چھراناچاہتے ہیں۔
سونم وانگچک ایک استاد،ایک مفکر،ایک فطرت دوست اب تحریک کے محوربن چکے ہیں۔وہ محض ایک ماہرماحولیات نہیں، بلکہ ضمیر کی آوازہیں۔ان کی قیادت میں لیہہ کے بودھ اور کرگل کے مسلمان ایک ہی صف میں کھڑے ہیں،گویامذہب کی دیواروں کے پارانسانیت نے ہاتھ ملالیاہو۔لداخ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انسان نے مذہب پرسبقت حاصل کی ۔یہ اتحادتاریخ کے جبرکے مقابلے میں فطرت کی زبان میں لکھی گئی نظم ہے۔
جب طاقت نے سنی ان سنی کی توبھوک نے زبان پائی۔جب بات دلیل سے نہ بنی تووانگچک نے بھوک سے احتجاج کیا۔وانگچک کی بھوک ہڑتال دراصل انسانی وقارکی علامت تھی، حکومت کے مذاکرات محض سیاسی چال ثابت ہوئے۔دہلی تک کامارچ اورحکومت کے بے حاصل مذاکرات یہ ثابت کرتے ہیں کہ طاقت جب سننے سے انکارکردے توخاموشی خود ایک للکاربن جاتی ہے۔یادرکھیں کہ خاموشی احتجاجی آوازوں کی مرشدہے اورتحریربھی خاموشی کی روح اورزبان ہے۔خاموشی اورسچائی کی بھوک بجھائی نہیں جا سکتی۔حکومت کی خریدارانہ سیاست اس ضمیرکونہیں خریدسکی جوبرف کے پتھروں میں بھی گرم ابلتاخون رکھتاہے۔
ستمبرکی سردراتوں میں شہید پارک کے روزے دارمجاہدین نے بھوک کواحتجاج کااستعارہ بنادیا۔23ستمبرکوجب دوبزرگ بھوک سے نڈھال،گرکربے ہوش ہوگئے،یہی لمحہ عوامی صبرکی آخری حدتھا۔بھوک کااحتجاج اب عوامی شعورکی آگ میں ڈھل گیاتودلوں میں جو جذبہ تھا،وہ آتش فشاں بن گیا۔انسان جب اپنے وجودکے انکارپرمجبورہو،توبھوک بھی انقلاب کاہتھیاربن جاتی ہے۔
24ستمبرکو لیہہ کی گلیوں میں نوجوانوں کے قدم گویاتاریخ کی چاپ بن گئے۔عوام نے مارچ کیاتوریاست نے جواب گولی سے دیا۔ہر گولی دراصل ایمان،انصاف اوروعدے پر چلائی گئی ایک گولی تھی۔گولیاں چلیں،خون بہا،اورسرکاری عمارتیں ان آنسوؤں کی قبریں بن گئیں جنہیں ریاست نے کبھی پونچھنے کی زحمت نہیں کی۔ہرگولی ایک وعدے کے ٹوٹنے کی آوازتھی۔چارزندگیاں اپنے جائزمطالبات کیلئے خاک میں مل کرقربان ہوگئیںایک سابق سپاہی بھی ان میں تھا،جوکبھی اسی پرچم کامحافظ تھا اورجس نے شاید کبھی اسی ترنگے کیلئے جان دینے سے بھی گریزنہیں کیاتھامگراب وہ پرچم اس کے خون سے ترہوگیا۔وانگچک کی گرفتاری نے گویاانصاف کوزنجیرپہنادی۔وانگچک کی گرفتاری نے انصاف کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ریاست کی سلاخیں جب اہلِ فکرکو قیدکریں،تودیواروں سے صدائیں اٹھتی ہیں،خاموشی شوربن جاتی ہے۔
لداخ کے بامِ فلک پرکرفیوکاسناٹاچھاگیا،موبائل،انٹرنیٹ،حتی کہ گفتگوکے دھاگے تک کاٹ دیے گئے،کرفیونے زبانیں بندکیں،مگردلوں کی صدائیں گونج بن گئیں،مگردلوں کی موجوں اورروشن جذبوں کوکون روک سکتاہے؟ریاست نے جسم قیدکیے،مگرروح آزادہے۔ عوام کااضطراب اب فضامیں پھیل چکاہے،اورپہاڑبھی اس خاموش چیخ کے گواہ ہیں ۔
چیرین دورجے کی پکارمیں آئینی روح بولتی ہے،چیرین دورجے لاکرک کی زبان میں جوآگ ہے،وہ مایوسی نہیں،ایمان ہے۔وہ کہتا ہے:ہم جرم نہیں کررہے،وعدہ یاددلارہے ہیں ،وعدہ خلافی کے جواب میں گولی نہیں،انصاف چاہیے۔یہ صداگویاآئین کے بطن سے اٹھتی ہے۔وہ حکومت سے نہیں،انصاف سے مخاطب ہیںکہ وعدے پورے کرو،ہم صرف وعدے مانگتے ہیں،رعایتیں نہیں۔
6/اکتوبرکے مذاکرات کے آغازسے پہلے ہی چارافرادموت کے گھاٹ اترگئے۔جب ظلم کے بعدمذاکرات کی میزبچھائی جاتی ہے تو الفاظ محض رسمی تعزیت بن جاتے ہیں۔ظلم کے بعد مذاکرات،انصاف نہیں،تمسخرہوتاہے۔لداخ کے رہنماں نے بائیکاٹ کرکے عزتِ نفس کاپرچم بلندرکھ کربتادیاکہ عزت کی سیاست سودے بازی سے بلندہے۔
(جاری ہے)