تمباکو کے شعبے میں 300ارب اور پولٹری کے شعبے میں 30ارب روپے کی ٹیکس چوری کی جارہی ہے،ایف بی آر
اسلام آبا د (آئی این پی )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں ایف بی آر کی جانب سے پولٹری اور تمباکو کے شعبے میں اربوں روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے، تمباکو کے شعبے میں 300ارب اور پولٹری کے شعبے میں 30ارب روپے کی ٹیکس چوری کی جارہی ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2025زیر غور آیا۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے بتایا ہے کہ پولٹری کے شعبے کو 10ارب روپے کا ٹیکس دینا تھا، لیکن 1.3ارب دے رہے تھے، 70سے 80روپے میں چوزہ ان کو پڑتا ہے وہ 180روپے تک فروخت کرتے ہیں۔چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ تمباکو کے شعبے میں 300ارب روپے کی ٹیکس چوری ہے، جس سگریٹ پر اسٹیمپ نہیں لگی وہ غیر قانونی ہے، غیر قانونی سگریٹ کے خلاف صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات حاصل کریں گے۔چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے استفسار کیا کہ ایک ہفتہ قبل صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا، کئی ممبران نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس آرڈیننس کے تین حصے ہیں، انکم ٹیکس ریٹرن میں کاسٹ اکائونٹ نہیں ہیں، ہمارے پاس مارکیٹ انٹیلی جنس تھی کہ کچھ شعبوں میں مسائل ہیں۔چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ پولٹری کے شعبے کے پانچ سال کے واجبات 150ارب روپے تک ہونگے، سالانہ 30ارب روپے پولٹری کے شعبے کے ذمہ واجب الادا ہونگے، آرڈیننس کے لانے کی وجوہات یہ ہیں کہ پیداوار کی مانیٹرنگ کرنی ہے۔