غیر قانونی سگریٹس کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن، غیر قانونی شعبہ ٹیکس دہندگان کی حوصلہ شکنی کرتا ہے:وزیر مملکت
اسلام آباد (آن لائن) وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ تمباکو کے شعبے میں غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث قومی خزانے کو سالانہ 137 سے 200 ارب روپے تک کا بھاری نقصان ہو رہا ہے، جس کے تدارک کے لیے حکومت نے سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سگریٹس کے کاروبار کو کنٹرول کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ یہ نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ ٹیکس ادا کرنے والے قانونی کاروباری افراد کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی شعبہ ٹیکس دہندگان کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور اس کے خاتمے کے بغیر ٹیکس نظام کو مستحکم نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جامع اصلاحات متعارف کرا رہی ہے تاکہ ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ سگریٹ کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے، جبکہ غیر قانونی سگریٹ بنانے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد یونٹس بند کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی سگریٹس فروخت کرنے والے ریٹیلرز کے خلاف چھاپے مارے جا رہے ہیں اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے غیر قانونی برانڈز کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔وزیر مملکت نے واضح کیا کہ ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد ٹیکس ریونیو میں اضافہ اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم خود مختلف شعبوں میں ٹیکس معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ اصلاحاتی عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔