ہنی ٹریپ ،پولیس اہلکار ملوث نکلے 3 خواتین سمیت 7 گرفتار
خواتین سوشل میڈیا پر دوستی کر کے لڑکوں کو مختلف فلیٹس میں بلاتی تھیں ، ساتھیوں کی مدد سے تشدد کیا جاتا ،50افراد شکار ہو چکے ، عاصم، وقاص،احمد، ابرار، نورین، کرن اور فریحہ کو سوشل میڈیا، موبائل فون ٹریسنگ اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پکڑا گیا
لاہور(کرائم رپورٹر)لاہور میں پولیس اہلکار بھی ہنی ٹریپ میں ملوث نکلے۔ 3 خواتین سمیت 7 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ایس پی ماڈل ٹاؤن اخلاق اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کوٹ لکھپت پولیس نے ہنی ٹریپ میں ملوث 3 خواتین سمیت 7 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ملزمان میں عاصم، وقاص،احمد، ابرار، نورین، کرن اور فریحہ شامل ہیں۔ خواتین ملزمان لڑکوں سے سوشل میڈیا پر دوستی کرتی تھیں۔ خواتین ملزمان دوستی کے بعد بہانے سے لڑکوں کو مختلف لوکیشنز پر واقع فلیٹس میں بلاتی تھیں۔ خواتین ملزمان فلیٹ پر پہلے سے موجود ساتھیوں سے مل کر تشدد کرتیں۔پولیس کے مطابق ملزمان دوران تشدد لڑکوں کی برہنہ ویڈیو بناتے اور بھاری رقم کا مطالبہ کرتے تھے۔ رقم نہ دینے پر ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دیتے تھے۔ ملزمان اب تک 50 سے زائد افراد کو ہنی ٹریپ کا شکار کرچکے تھے۔ملزمان سے 7 موبائل فون، ہتھکڑی، پستول، 55 ہزار نقدی اور دیگر سامان برآمد کیا گیا۔ گرفتاریاں سوشل میڈیا، موبائل فون ٹریسنگ اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کی گئیںملزمان اب تک 50 سے زائد افراد کو ہنی ٹریپ کا شکار کرچکے تھے۔گرفتاریاں سوشل میڈیا، موبائل فون ٹریسنگ اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کی گئیں۔شہری کامران کی درخواست پر پولیس نے گروہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، جس کی ایف آئی آر کے مطابق ہنی ٹریپ کرنے والے گروہ میں 2 پولیس اہلکار اور ایک پولیو ورکر بھی شامل ہیں۔ گروہ کے سرغنہ عاصم نے پولیو ورکر کے ساتھ مل کر گینگ بنایا۔