انتظار احمد
"تجاہل عادلانہ "ایک ریٹائرڈ سیشن جج کی "متنوع عنوانات" پر مبنی وہ خوب صورت کتاب ہے جس کی بوقلمونی اپنے اندر انفرادیت لئے ہوئے ہے -کتاب میں باندھے گئے مختلف عنوانات اپنے آپ میں حیرت کدہ معلوم ہوتے ہیں -معاشرت, معیشت, نظام عدل و انصاف , قانون, مذہب, ادب, عمرانی معاملات, زندگی کے تلخ لیکن حقیقت پر مبنی تجربات, سیاسیات, ملکی مسائل اور انٹر نیشنل معاملات غرض یہ کہ زندگی کے تخلق وشیریں تجربات کو عابد حسین قریشی نے اپنی کتاب" تجاہل عادلانہ "میں سمویا ہے -عابد حسین قریشی سے راقم کا تعلق زیادہ پرانا نہیں - ان کی سادہ مزاجی اور دلکشن انداز گفتگو کا ایک عالم اسیر ہے - راقم کو "تجاہل عادلانہ" بہت پہلے موصول ہوئی تھی -لیکن ناسازی طبع کی وجہ سے اس پر کچھ لکھنے میں تاخیر ہوئی -میری صائب رائے جس سے اختلاف کیا جاسکتا ہے کچھ یوں ہے کہ کتاب اور صاحب کتاب کی پرکشش ساحرانہ خصوصیات انھیں علمی اور قلمی دنیا میں امر کرنے کا باعث بنے گی -عابد حسین قریشی ایسے سیشن جج ہیں جن کو لاہور ہائی کورٹ نے مرد بحران یا Man of crisis کا خطاب دیا تھا -وہ اپنے زمانے کے دلیر اور دبنگ منصف رہے ہیں -پنجاب کے جس علاقے میں صورت حال خراب ہوتی اور سنبھالے نہ سبھلتی وہاں یہ مرد بحران تعینات کئے جاتے یوں حیرت کی حد تک ْخراب صورت حال ٹھیک ہوجاتی تھی -عابد حسین قریشی نے بطور سیشن حج کچھ ایسے فیصلے بھی صادر فرمائے ہیں جن کو ہمارے نظام عدل و انصاف کی تاریخ میں برسوں سنہری الفاظ میں لکھا اور پڑھا جائے گا -"تجاہل عادلانہ" 64 عنوانات پر مبنی کتاب زندگی اور معاشرہ کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں حقائق پر مبنی چشم کشا انکشافات کا وہ بحر بے کراں ہے جس میں غوطہ زن ہوکر علم وعمل کے شناور مالا مال ہوسکتے ہے ہیں -یہ ایک صاحب علم ,تجربہ کار اور کار جہاں کے رازوں سے آگاہی رکھنے والے شخص کے وہ ذاتی اور ملی تجربات ہیں جن پر نقاد کی صائب رائے ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہوگی - عابد حسین قریشی نے وکالت سے عدالت تک کی کئی دھائیوں پر مشتمل یادوں اور تجربات کو اس کتاب میں مختلف طریقے سے سمونے کی کامیاب کوششش کی ہے -ایک طرف وہ نظام عدل کے نمائندہ کے طور پر اپنے ہی ادارے کے کمزور اور کرپٹ پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں تو دوسری طرف وہ معاشرے کے ان ناسوروں کے بارے میں بھی ہمیں آگاہی دیتے ہیں جو سرطان بن کر مقاشرے کو تباہی بربادی کے دھانے پر لے آئے ہیں -عابد حسین قریشی کی تحریروں کی رنگارنگی اور بوقلمونی قاری کے اذہان کو اسیر کرکے ورق ورق کی ورق گردانی پر مجبور کرتی ہے -کتاب کی جاذبیت اور کشش کا پہلو بھی اس کتاب کی اہمیت کو دوچند کرتا ہے - یہ کتاب آپ بیتی اورجگ بیتی کا خوبصورت امتزاج ہے -"تجاہل عادلانہ" میں یادوں کے جھروکے بھی ہیں اور آپ بیتی کے خوب صورت واقعات بھی -قریشی صاحب کا تعلق چونکہ عدالت اور عدل و انصاف سے برسوں رہا ہے اس لئے انھوں نے "ہمارانظام عدل,خامیاں اور اصلاح احوال کے تقاضے "کے عنوان سے جو لکھا وہ ہمارے معاشرے کے اس پہلو سے پردہ اٹھانے کی کامیاب کوشش ہے جس کو ہم نے ہمیشہ نقاب میں رکھا -ان کے ارشادات عام آدمی کی باتیں نہیں بلکہ درون خانہ کے رازوں سے آگاہی رکھنے والے
کھاگ شخص کی خاص تحریریں ہیں-انھوں نے "سمجھدار بزرگ"ایسے مضمون میں ایک واقعہ بیان کرکے ہمارے گراوٹ کے شکار معاشرے میں بزرگوں کے عدم تحفظ کی کیفیت کو جس طرح ننگا کیا ہے وہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے -اسی طرح ان کا مضمون "حکمت ,ہومیو پیتھی اور ایلو پیتھی " بھی بہت خآص ہے -جس میں انھوں نے طب مشرق اور حکمت یونانی کا موازنہ ایلوپیتھی اور مغربی طریقہ علاج سے کیا ہے -انھوں نے طب مشرق کے اوصاف بیان کرکے اس کی موجودہ صورت حال کا جو ماتم کیا ہے وہ بھی ایک اہم حقیقت ہے -عابد حسین قریشی جہاں دیدہ انسان اور صاحب مطالعہ شخصیت ہیں - انھوں نے معاشرے کے ان رویوں کو اپنی کتاب میں بیان کیا ہے جو آج روگ جان بن کر ہماری آنے والی نسلوں کو تہ بالا کررہے ہیں -انھوں نے کچھ ایسی باتیں بھی اس کتاب میں تحریر کی ہیں جن سے ہم راہ نمائی حاصل کرسکتے ہیں ان یہ فرمانا بھی کتنا درست ہے کہ "جس شخص کو عقل آنا ہوتی ہے اٹھارہ بیس سال کی عمر میں ہی آجاتی ہے اور جسے قدرت نے عقل ودانش سے محروم رکھنا ہو اسے 75/70 سال کی عمر میں بھی نہیں آتی "اسی طرح کتاب مذکورہ کا یہ جملہ "امارت مال سے نہیں دل سے ہوتی ہے اور بزرگی عمر سے نہیں عقل سے ہوتی ہے "آب زر سے لکھنے سے متعلق ہے -عابد حسین قریشی(ر) سیشن جج ہونے کے ساتھ ساتھ دانشور بھی ہیں- وہ ملک کے مختلف اخبارات اور جرائد میں لکھتے رہتے ہیں -ان کے کالم حالات حاضرہ اور سیاسیات کے حوالے سے بہت معنی خیز ہوتے ہیں "تجاہل عادلانہ میں شامل ان کا ایک کالم "ابھی الوداع نہ کہنا "عمران خان کی سیاسی زندگی کی ابتدا سے موجودہ صورت حال تک کی جیسے عکاسی کرتا ہے وہ بہت دل چسپ اور معنی خیز ہے- اس کالم کا اسلوب بھی باکمال ہے- فاضل مصنف نے علامت نگاری کا سہارا لے کر اس کالم میں سوسائٹی اور بااثر قوتوں کے جس طرح بخیے ادھیڑے ہیں وہ پڑھنے سے متعلق ہیں -"عورت ایک منفرد اود دل فریب تخلیق "کے عنوان سے فاضل مصنف نے عورت کی نفسیات اور اس کی کمزوریوں اور خامیوں کی جس طرح نشاندہی کی ہے وہ انھیں ایک ماہر نفسیات کے طور پر بھی متعارف کرواتی ہیں -"تجاہل عادلانہ" میں کچھ ایسے حوالے بھی موجود ہیں جو کتاب میں ندرت پیدا کرتے ہیں -"بے قابو بے لباس کھسرے " "اپنا اپنا سچ اور جھوٹ " "سانحہ سقوط ڈھاکہ " "شوہروں کی اقسام " "کورٹ میرج, حقیقت یا افسانہ " "ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی "اپنی مرضی کے جج, اپنی مرضی کا انصاف " " خود کلامی "ایسے مضامین اس حوالے سے بہت اہم ہیں -عابد حسین قریشی قصبہ چٹی شیخاں سیالکوٹ کے باسی ہیں -تعلیمی مدارج طے کرکے وہ انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر بھی ادب تخلیق کرتے رہے -37 سال عدالتی نظام کا حصہ رہ کر اور فائلوں میں ڈوبی زندگی گزار کر بھی ان کے اندر کا ادیب, دانشور اور قلم کار زندہ رہا -وہ" شہر اقبال" میں ڈیرہ ڈال کر بیٹھے رہے اور "فیض اقبال" سے بھی خوب مستفیض ہوئے -عدل گستری کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ قلم وقرطاس سے اپنا رشتہ مضبوط سے مضبوط تر کئے ہوئے ہیں -"عدل بیتی" کے بعد" تجاہل عادلانہ" کی اشاعت اس کا بین ثبوت ہے -ان کی پہلی کتاب "عدل بیتی" سے اگر چہ میں شناسا نہیں ہوں تاہم پروفیسر افتخار حسین شاہ کا یہ کہنا کہ "جو قاری "شہاب نامہ "کا والا وشیدا ہے وہ "عدل بیتی "کا مطالعہ ضرور ضرور کرے "مجھ کو انگیخت کرتا ہے کہ اس شاہ کار کا مطالعہ بھی ضرور کیا جائے -بہرحال عابد حسین قریشی کے حوالے سے ہماری یہ رائے ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ پاکستان کی ادبی اور علمی حلقوں میں اہم حوالہ بن سکتے ہیں بشرطیکہ وہ لکھنے لکھانے کا یہ عمل جاری رکھیں -