روبینہ شاہیں
قلم خدا کی امانت ہے اور ادیب اس کا امانت دار ہوتا ہے کائنات سب سے پہلے قلم تخلیق کیا گیا پھر اللہ تبارک و تعالی نے لوح کتاب تحریر کی جس میں کائنات کے غزل سے ابد تک کے حالات واقعات محفوظ کیے اور اج بھی یہ کہ اٹل حقیقت ہے کہ کائنات کے راز اور ترکیب اس میں محفوظ ہیں کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے قلم ہر انسان کے ہاتھ میں طاقت نہیں ہوتا بلکہ یہ وہ ہتھیار ہے جس کو خدا چاہے طاقت عطا کرے زندگی اور وقت تیز رفتاری سے گزر جاتے ہیں اس میں گزرنے والے حیاتیات جو ترکیب کہانی بناتے ہیں وہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ مدہم ہو کر غائب ہو جاتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان اس دنیا میں ایا ہی نہیں تھا زندہ رہتا ہے وہ انسان جو کتاب میں محفوظ ہوا قلم سے تحریر ہوا لفظوں کے پیرہن پہنے اور کہانی کی صورت میں یا واقعات کی صورت میں ایک مثال کی طرح کتاب کے صفحوں میں قید ہو گیا صدیاں گزرتی جاتی ہیں مگر جو واقعات و حالات کتابوں میں محفوظ ہیں لوگ اسی سے اشنا ہیں اور یاد کرتے ہیں نسلوں کو بتاتے ہیں اور مثال?ں پیش کرتے ہیں کائنات کے واقعات و حالات کی یہ سب سے بڑی نشانی اور گواہ اللہ تبارک و تعالی کی بھیجی ہوئی کتاب قران پاک ہے ایک ایسا نسخہ کیمیا جو انسانی ا رض حیات کو ازل سے ابد تک بیان. کرتا ہے زندگی جس میں زندگی جینے کے ا صول بتاتا ہے گزری قوموں کے حالات بیان کرتا ہے انسانی رشتوں کی حدود و قیود اور اہمیت کو واضح کرتا ہے قران پاک سے پہلے جو کتابیں نازل کی گئی وہ وقت کے ساتھ لوگوں نے اپنے طریقہ حیات کو اسان بنانے کے لیے بدل دی یا معدوم کر دی کیونکہ انسان دنیا میں اپنے ہی طریقوں سے جینا چاہتا ہے انجام سے بے خبر عذاب سے لاپروا نظر انے والی دنیا پہ اپنے جذبات کے لیے مکمل کرتا ہے قران پاک دنیا کی وہ واحد کتاب ہے جو رد و بدل سے محفوظ ہے یہی وہ ایک کامل مثال ہے جو کتاب کی اہمیت کو ثابت کرتی ہے فرعون نمرود حضرت ابراہیم علیہ السلام انبیاء کرام اصحاب کہف حضرت یوسف علیہ السلام حضرت یونس علیہ السلام اور بے شمار واقعات جو شاید زمانہ کبھی نہ جان سکے اللہ تعالی نے انسانوں کو روشنی دکھانے کے لیے بیان کیے اور اج ہم انبیاء کرام اور رب تعالی کے معجزات کرامات انعامات احسانات سے نہ صرف آشنا ہوتے ہیں دنیا کی سب سے بڑی مثال ہے باقی تمام کتب جو دنیا میں موجود ہیں ایک جز ہے اس مثال کے ذرات ہیں کتاب علم کا خزانہ ہے کتاب ایک بہترین ساتھی ہے کتاب علم کی روشنی ہے کتاب ایک بہترین معمار ہے کتاب معلومات اور علم کا بہترین ذریعہ ہے ادب علم کا زیور ہے اور یہ انسانی ذہنوں کی ابیاری کرتا ہے معاشروں کو پروان چڑھاتا ہے ایسے کرنے میں کتاب بنیادی کردار ادا کرتی ہے کتاب علم کا خزانہ ہوتی ہیں اس میں جس کو ہم نے اس خزانے کی حفاظت کی وہ ہی سب سے امیر ہوتی ہے اج انٹرنیٹ کی کا دور ہے تیز ترین دو ر جس میں دنوں کا سفر گھنٹوں میں اور گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے ہوتا ہے انٹرنیٹ پر ہر قسم کی معلومات فراہم کی جاتی ہیں مگر دیکھا جائے تو ان معلومات کی حقیقت بھی کتاب کی مرہون منت ہے ہم انٹرنیٹ سے معلومات لے تو سکتے ہیں مگر ایک مستند ثبوت کتاب کے اندر ہی موجود ہوتا ہے جو لکھنے والا خود بے بہا مطالعہ کر کے کئی لوگوں سے سند حاصل کرتا ہے اور شائع کرواتا ہے تاکہ غلطی کا احتمال نہ رہے پاکستان میں لائبریریوں کی تعداد دنیا کی نسبت بہت کم ہے پڑھنے والوں کا تخمینہ اس سے بھی کم ہے انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک نیا انقلاب ا چکا ہے زوم پوسٹ کوڈ اور بے شمار ایسے لنکس ایک بٹن دبانے پر فاصلے سمٹ کر ایک دوسرے کے قریب کر دیتے ہیں ایک بٹن دباتے ہیں تو پوری دنیا سے لوگ ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں خیالات اور. علم کی تشہیر کی جاتی ہے گھر بیٹھے ہم بہت. کچھ جاننا شروع کر دیتے ہیں پروگرامز انٹرویوز بحث مباحثہ ہم ان لائن کی سطح پر کر سکتے ہیں اسی طرح کتابیں جو پی ڈی ایف کی شکل میں موجود ہوتی ہیں پوری دنیا میں ایک دوسرے کی رسائی میں ا جاتی ہے علم کی تشہیر کا ایک بہترین طریقہ کار ہے کسی ایک شاعر یا ادیب کو جاننے میں جو کئی سال لگ جاتے تھے اب اپ ان کی معلومات اسانی سے انٹرنیٹ سے لے سکتے ہیں تبصرے تنقید تشہیر گھر بیٹھے کر سکتے ہیں علم کی دنیا بھی سمٹ کر ایک نقطے پر اگئی ہے یہ ایک نئی جہت ہے ایک نئی روشنی ہے ایک نئی تخلیق ہے اگر ادب کی دنیا میں ادب کے بارے میں کوئی بحث ہوگی تو اس میں تخلیق کار انٹرنیشنل کا نام ضرور ائے گا وقت کی ایک قلیل مدت میں ایک ایسا نیٹ ورک جس نے کتاب کی اہمیت کو. نہ صرف اجاگر کیا بلکہ عالمی سطح پر روشناس بھی کرایا اور نہ صرف روشناس کرایا بلکہ ادیبوں اور شاعروں کو ایک دوسرے سے متعارف بھی کرایا ایک سال نو ماہ کے عرصے میں 300 کتابوں کی رونمائی اور پذیرائی کی عالمی سطح پر ادیب اور شاعر اپنی کتاب کو یوٹیوب چینل پر بذات خود دکھا بھی رہا ہوتا ہے اور اس کے بارے میں تبصرے بھی کر رہا ہوتا ہے وہ کتاب جو شاید صدیوں خود کو دنیا کے سامنے نہ لا سکے وہ چند منٹو ں اور سیکنڈوں میں خود کو دنیا کے سامنے منواتی ہے وہ شاعر اور ادیب کو اپنی پہچان کرانے میں عمر گزار دیتے ہیں اور وہ بہت جلد اپنی ہی تحریروں کو دنیا کے سامنے پیش کر کے خوشی حاصل کر رہے ہوتے ہیں اور پھر یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ لکھا پڑھا قبول ہو گیا.
تخلیق ار انٹرنیشنل 360 پروگرام منعقد کرا چکا ہے 300 کتابیں رونمائی کے لیے پیش کی جا چکی ہیں بے شمار ایوارڈز سرٹیفکیٹس ادبی دنیا میں ان لائن دے چکا ہے بہترین زمینی پروگرام کروا چکا ہے اور اس میں بھی انٹرنیشنل سرٹیفیکیٹس ریوارڈز دیے جا چکے ہیں بہترین لوگوں کی ٹیم ورک کے ساتھ اپنے کام میں رواں دواں ہے ڈاکٹر شبیر احمد قادری ڈاکٹر نواز کنول جناب صالح اچھا صاحب محترمہ منور جہاں زیدی صاحبہ ڈاکٹر احسان تابش بشرہ فرخ ناصر علی سید فیاض مختار تلہری حلیم صابر اور ایسے ہی بے شمار عالمی سطح سے جڑے ہوئے نام تخلیق اور انٹرنیشنل کا ایک قابل فخر سرمایہ ہے. اور یہ سب
تخلیق اور انٹرنیشنل کے سربراہ ارحم روحان کی ناقابل شکست انتھک اور دلی کاوش ادب دوستی پر مشتمل محنت کا نتیجہ ہے ہر ادارہ کتاب کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں مگر تخلیق اور انٹرنیشنل وہ واحد ادارہ ہے جو عالمی سطح پر ہر میدان میں کتاب کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش میں مصروف ہے اور یہ ان لائن کی دنیا میں ایک نیا انقلاب ہے جو عالمی ورلڈ ریکارڈ کا انشاء اللہ حصہ بنے گا اللہ تبارک و تعالی ارحم روحان صاحب کو ان کی لامحالہ کوششوں میں بے شمار کامیابیاں عطا کرے اور کتاب کی اہمیت میں سالار کارواں کی حیثیت سے ان کی محنتوں کو سدر? المنتہی تک بام عروج عطا کرے امین.