محمد نواز رضا کی کتاب "مرد آہن نواز شریف "

انتظار احمدسدید
 "نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں" کے مصداق ہے  _ انھوں نے 70 کی دہائی میں ہفت روزہ" چٹان "سے  اپنی صحافتی زندگی کا اغاز کیا تھا  _ وہ  1980 سے 2021 تک" نوائے وقت" سے وابستہ رہے اج کل روز نامہ "جنگ" میں "مارگلہ" کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں _ انہوں نے 1986 میں پاکستان فیڈرل یونین اف جرنلسٹ کی بنیاد ڈالی _جس کے  وہ پہلے جنرل سیکرٹری اور تین بار صدر رہ چکے ہیں _وہ مسلسل 16 سال راولپنڈی اسلام اباد پریس  کلب کے صدر رہے ہیں _  محمد نواز رضا اے پی پی کے بورڈ اف ڈائریکٹرز اور فیڈرل گورنمنٹ ہاؤسنگ فیڈریشن کی ہاؤسنگ کمیٹی کے رکن بھی رہے ہیں _صدر پاکستان نے 2018 میں انہیں پرائڈ اف پرفارمنس کے اعزاز سے نوازا ہے _ ان کے کالموں کے مجموعوں " روداد سیاست "ون ،ٹو اور تھری کتابی شکل میں دستیاب ہیں _چودھری نثار علی خان کے حوالے سے  ان کی کتاب  بھی بہت اہم ہے _" مرد آہن  نواز شریف" ان کی  پانچویں کتاب ہے جس میں ان کے 78 کالمز اور نواز شریف سے لیے گئے دو انٹرویوز ہیں -
محمد نواز رضا کا خیال ہے کہ صحافی غیر جانبدار نہیں ہوتا لیکن اس کی صحافت کو ہمیشہ غیر جانبدار ہونا چاہیے _ان کا " اسلام اور نظریہ پاکستان "پر یقین , انھیں  دائیں بازو کی سیاسی سوچ رکھنے والے صحافیوں کی صف میں شامل کرنے کاسبب بنا _ محمد نواز رضا نے ہمیشہ راولپنڈی کی انکھ سے اسلام اباد کو  اور اسلام اباد کی نظروں سے راولپنڈی کو جانچا _  _ محمد نواز رضا  کی کتاب "مرد آہن  نواز شریف "بہادر شاہ ظفر کے دربار کا قصیدہ تو نہیں ہے لیکن  اس شخص کی یادوں ،تجربات اور انکھوں دیکھے حالات پر مبنی لکھے گئے کالموں کا وہ مجموعہ ضرور  ہے جس میں نواز شریف کے تینوں ادوار کو بطور وزیراعظم تنقیدی اور  ستائشی طور پر دیکھا اور پرکھا  گیا ہے _
 سلیم صافی نے محمد نواز رضا کی شخصیت کے حوالے سے درست لکھا ہے ،کہ یہ تین الفاظ "پاکستانیت،  اسلامیت اور انسانیت " نواز رضا کی شخصیت کے عکاس ہیں _نواز رضا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے نواز شریف کو بولتے اور سنتے  دیکھا اور سنا  ہے _ وہ نواز شریف کے ساتھ خلوت و جلوت میں رہے _"مرد آہن نواز شریف"  کتاب  میں نواز شریف کی ذات کو ہی زیر بحث نہیں لایا گیا بلکہ پاکستان کے ماضی حال اور مستقبل کی جھلک بھی اس میں نمایاں نظر اتی ہے _ مسلم لیگ نون اور میاں نواز شریف کے طرز سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ کتاب بہت اہم ہے _عطا الحق قاسمی کا تو یہ کہنا ہے کہ جس نے نواز شریف پر پی ایچ ڈی کرنی ہو وہ اس کتاب کو ضرور دیکھ لیے _ میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ میں جب اقتدار میں رہا تو محمد نواز رضا نے ہمیشہ مجھ سے فاصلہ رکھا لیکن دور اپوزیشن  میں وہ ہمارے قریب رہے _ نواز رضا خوش خوراک، بیدار صفت اور اپنی طرز کے منفرد رپورٹر رہے ہیں _ 
نواز رضا کا اوڑھنا بچھونا صحافت ہے _وہ فطری قلمکار ہیں _حق بات بانگ دوھل  اور بغیر لگی لپٹی کے کہنا ان کی عادت ہے _ تشبیہات اور استعارات کی زبان میں بات کرنے کا سلیقہ نواز رضا کو دوسرے صحافیوں سے انفرادیت عطا کرتا ہے _" ہم سب ویب سائٹ "اور" یوٹیوب چینل نواز رضا کے ساتھ "پر انہوں نے جو سینکٹروں  پروگرام ٹیلی کاسٹ کیے وہ اہمیت رکھتے ہیں _
نواز رضا89_ 1988  میں پہلی بار اسلام اباد پریس کلب کے صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے پریس کلب کے لیے پانچ لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کروائی _ 12 اکتوبر 1999 کو جنرل مشرف نے جب اقتدار سنبھالا تو طارق عزیز نے یہ کہہ کر کہ نواز رضا نواز شریف کا ادمی ہے ان سے پریس کلب چھین لیا  _  محمد نواز رضا کی صحافت کے حوالے سے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر حسین بخاری نے ان کے کالموں کے مجموعہ" روداد سیاست" کی تقریب رونمائی میں درست کہا تھا کہ، نواز رضا کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے کبھی قلم کا سودا نہیں کیا _ "مرد اہن نواز شریف" کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نواز شریف وہ سیاستدان ہیں جن کے حامی اور سیاسی مخالفین انہیں انڈر ایسٹیمیٹ کرتے ہیں _ وہ اتھارٹی منوانے والے لیڈر ہیں  _جرات و استقامت کے ساتھ ساتھ ان کے اعصاب  مضبوط ہیں _ بار بار  کی جیل یاترا اور پچھلے 40 برسوں میں سول اور عسکری قوت کے درمیان طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے جرم میں  وہ تین بار سیاسی شہید ہونے کے باوجود آج بھی میدان سیاست کے شاہ سوار ہیں _ کچھ احباب کی رائے ہے کہ نواز شریف منتقم مزاج لیڈر ہیں ان کے گرد خوشامدیوں کا گھیرا ہے ،لیکن نواز رضا کے مطابق یہ درست نہیں ہے _ محمد نواز رضا کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا تین بار جمہوری سسٹم سے نکلنا اور پھر پوری قوت سے واپسی اس بات کی غماز ہے کہ وہ خطے کے سب سے بڑے سیاستدان ہیں _ "مرد آہن نواز شریف " میں محمد نواز رضا کے 78 کالم شامل ہیں _ اس کے علاوہ نواز شریف سے لیے گئے دو انٹرویوز "ہم بائیکاٹ کی طرف نہیں جا رہے" اور" کمپرومائز کا لفظ میری سیاسی لغت میں نہیں" شامل ہیں _گرچہ تمام کالمز پڑھنے سے متعلق ہے لیکن "نواز شریف کا نعرہ زرداری نیازی بھائی بھائی "،"بمبئی حملہ اور نواز شریف کا انٹرویو" ،"نواز شریف کاسب سے بڑا دشمن کون "،"نواز شریف اور ایون فیلڈ ریفرنس" ،"قیدی نمبر 1421 اور 1422 کے شب و روز" ،'بیگم کلثوم نواز کی کچھ باتیں کچھ یادیں" ،"ویڈیو سکینڈل کا "ڈراپ سین"" "نواز شریف اور زرداری کے درمیان "رومانس " "وزارت عظمی کی دوڑ" ،"ڈاکٹر اے کیو خان ذوالفقار علی بھٹو ضیاء￿  الحق اور نواز شریف" ،"بدلا ہوا پاکستان اور نواز شریف کی واپسی" ،"نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان اتفاق رائے "،"نواز شریف کی واپسی اور عمران خان کی پریشانی" ،"یوم تکبیر نواز شریف اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان "،"نواز شریف کی نائلی ختم عمران خان سے بلا چھن گیا" ،"نواز شریف اور یوم تکبیر،"  اور "نواز شریف نے پارٹی ٹیک اور کر لی "ایسے کالم پڑھنے سے متعلق ہے _بہرحال 320  صفحات پر مبنی یہ کتاب  جس  میں  چار صفحات خوبصورت تاریخی  تصاویر پر مبنی ہیں مصنف کی مغز بیدار تحریروں اور قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے چیئرمین علامہ عبدالستار عاصم کی خوبصورت کاوشوں کا بین ثبوت ہے _ یہ کتاب پاکستان کے ہر تعلیمی ادارے اور تحقیقی میدان سے وابستہ افراد کی لائبریریوں  میں ہونا بہت ضروری ہے _