یاسمین فرخ
انسانی تاریخ عظیم تہذیبوں کے عروج و زوال سے بھری ہوئی ہے۔ وادی سندھ کے منصوبہ بند شہروں سے لے کر عظیم رومی سلطنت تک، ہر تہذیب نے اپنے پیچھے ثقافتی خزانے، علم اور شاندار تعمیرات چھوڑیں۔ لیکن اپنی شان و شوکت کے باوجود، ان میں سے کوئی بھی ہمیشہ باقی نہ رہ سکی۔
ان تہذیبوں کے زوال کی مختلف گونا گوں وجوہاترہیں۔کبھی تو اکثر یہ قدرتی آفات کی وجہ سے تباہی کا شکار ہوئیں تو کبھی داخلی کمزوریوں کے بموجب زوال پذیر ہوئیں، کچھ تہذیبیں معاشی بحرانوں اور بیرونی حملوں کے امتزاج کے نتیجہ میں بھی صفحہ ہستی سے مٹتی چلی گئیں۔
ماحول ہمیشہ سے تہذیبوں کی تقدیر پر اثر انداز ہوتا آیا ہے۔ کئی معاشرے زراعت کے لیے موسم، زرخیز زمین اور پانی کے ذخائر پر انحصار کرتے تھے۔ جب قدرتی حالات بدلے تو ان کی بقا خطرے میں پڑ گئی۔وادی سندھ کی تہذیب دریا کے رخ بدلنے اور شدید قحط سالی کے باعث زراعت سے محروم ہوئی اور تاریخ کے اوراق کا حصہ بن گئی۔وسطی امریکہ کی مایا تہذیب بار بار آنے والی خشک سالیوں کی وجہ سے تباہ ہوئی، جس نے ان کے آبی ذخائر ختم کر دیے اور قحط کو جنم دیا۔ماحول تبدیلی کے عمل سے مسلسل گزرتے ہیں۔ اورماحول کی تبدیلی کے ساتھ ڈھلنے کی صلاحیت نہ ہونے کے باعث یہ عظیم شہریتیں خالی ہو گئی۔ جیسیمیسوپوٹیمیا میں مسلسل نہری آبپاشی نے زمین کو نمکیات زدہ بنا دیا.نہری آبپاشی نے نکاسی اور نمکیات کو گھٹانے کے ذریعے شورزدگی کو کسی حد تک قابو میں رکھا، لیکن طویل عرصے میں غلط انتظام اور زیادہ آبپاشی نے مسئلہ مزید شدید بنا دیااور زرخیز زمین بنجر ہو گئی۔کئی علاقوں میں جنگلات کی کٹائی اور زمین کی حد سے زیادہ کاشتکاری نے مٹی کو کمزور کر دیا، جس سے خوراک کی قلت پیدا ہوئی۔جب خوراک اور وسائل کم ہوئے، تو بھوک، غربت اور بغاوت نے ان معاشروں کو اندر سے ہلا دیا۔
کسی بھی تہذیب کی بنیاد اس کا معیشتی ڈھانچہ ہوتا ہے۔ جب معیشت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے تو زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔رومی سلطنت کے آخری دور میں افراطِ زر، بھاری ٹیکس اور غلامی پر انحصار نے معیشت کو تباہ کر دیا۔تجارتی راستے ٹوٹ گئے اور عوام غربت میں ڈوب گئے۔معاشی زوال نے ریاست کو کمزور اور عوام کو بے چین کر دیا۔ہڑپہ کے کھنڈرات، مایا کے مندر اور روم کی ٹوٹی ہوئی دیواریں یاد دلاتی ہیں کہ کوئی تہذیب ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔ سب سے بڑا خطرہ کسی ایک حادثے سے نہیں بلکہ تبدیلی کے ساتھ نہ ڈھلنے کی صلاحیت کھو دینے سے پیدا ہوتا ہے۔
آج دنیا بھی انہی مسائل سے دوچار ہے جن میں سر فہرست موسمیاتی تبدیلی ہے، پاکستان جیسیترقی پذیر ممالک اور نہایت غریب موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کے ساتھ ساتھ وسائل کی کمی، عدم مساوات اور عالمی تنازعات کا بھی شکار ہیں۔ ان حالات میں بحیثیت پاکستانی ہمارے سامنے ایک بڑا سوال یہ موجود ہے کہ کیا پاکستان شدید ماحولیاتی اثرات کے باوجود زندہ رہ سکتا ہے؟
واضح رہے کہ پاکستان دنیا کے اْن ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی کاربن کے اخراج میں اس کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، پگھلتے گلیشیئرز، پانی کی کمی، سیلاب اور بدلتے موسم پہلے ہی لاکھوں پاکستانیوں کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ ملک کو درپیش چیلنجز میں سب سے بڑا چیلنج گلیشیئرز کا پگھلنا اور سیلابوں کا آنا ہے۔پاکستان میں 7,000 سے زائد گلیشیئرز ہیں، جن میں سے کئی تیزی سے پگھل رہے ہیں۔اس سے گلیشیئر جھیلوں کے اچانک پھٹنے والے سیلاب (GLOFs) سے سیلاب کی تباہ کْن صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔جیسا کہ اس وقت ہم گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا سمیت پورے پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔
پانی کے لیے ہمارا زیادہ تر انحصار دریائے سندھ پر ہے، لیکن فی کس پانی کی دستیابی گزشتہ دہائیوں میں خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔پانی کا ضیاع، ناقص انتظام اور تیزی سے بڑھتی آبادی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔پاکستان کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی کا روزگار زراعت سے جڑا ہوا ہے۔بارش کے بدلتے پیٹرن، ہیٹ ویوز اور قحط خوراک کی پیداوار کے لیے خطرہ ہیں۔2010کے سیلاب نے 2 کروڑ لوگوں کو بے گھر کیا۔2022 میں غیر معمولی مون سون بارشوں نے ملک کا ایک تہائی حصہ ڈبو دیا۔ اس سال سیلاب نے تو تمام صوبوں کو ڈبو دیا ہے۔ نقصانات کا تخمینہ لگانے کے بعد اندازہ ہو گا کہ کتنے اضلاع، موضع جات اور دیہات مکمل طور پر سیلاب بْرد ہو چکے ہیں اور کتنا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ ایک خام تخمینے کے مطابق یہماحولیاتی آفات پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا چکی ہیں۔فصلوں کی تباہی، بنیادی ڈھانچے کی بربادی اور لوگوں کی بے دخلی پہلے سے کمزور معیشت پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔، ہنوز بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔
یہ وہ حالات ہیں جن میں پاکستانیوں کی اکثریت امید کا دامن چھوڑ رہی ہے اور یوں دکھائی دیتا ہے جیسے پاکستان اس تباہی سے شاید کبھی نہ اْبھر سکے اور اس کا انجام بھی خدا نخواستہ موسیمیاتی تبدیلی کا شکار ماضی کی تہذیبوں جیسا نہ ہو۔
لیکن ابھی بھی ہم درست سمت کا تعین کر کے حالات کا رْخ بہتری کی طرف موڑ سکتے ہیں مگر صرف اسی صورت میں اگر فوری طور پر عملی اقدامات کیے جائیں۔ بقا کا انحصار پالیسی، آگاہی اور عمل پر ہے۔ یہ بات تو بارہا کی جاتی رہی ہے کہ نئے ڈیموں کی تعمیر اور جدید آبپاشی کے نظام کو فروغ دینا کتنا نا گزیر ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بارش کے پانی کو محفوظ کرنا اور نہروں کو پختہ کر کے ضیاع کم کرنا۔ماحولیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت ،خشک سالی برداشت کرنے والی فصلوں کا استعمال۔کسانوں کو جدید آبپاشی کے طریقوں (ڈِرِپ، اسپرنکلر) کی تربیت دینا۔گنے اور چاول جیسی زیادہ پانی خرچ کرنے والی فصلوں پر انحصار کم کرنا جیسے اقدامات حالات میں خاطر خواہ بہتری لا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ہم چین جیسے ملک کے کامیاب تجربات سے بہت زیادہ استفادہ کر سکتے ہیں۔
آفات سے نمٹنے کی تیاری ،سیلاب، ہیٹ ویوز اور قحط کے لیے ایمرجنسی وارننگ سسٹم کے لیے ہم کئی دیگر ممالک کے تجربات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو مضبوط اور فرض شناس بنانا ہو گا۔قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی ،تیل اور گیس پر انحصار کم کرنا ہو گا۔شمسی، ہوا اور پن بجلی کے منصوبوں کو فروغ دینا ہو گا۔عالمی تعاون کے لییپاکستان کو بین الاقوامی ماحولیاتی مذاکرات میں مؤثر نمائندگی کی
ضرورت ہے۔کلائمٹ فنانسنگ سے وسائل حاصل کرنا ہوں گے تاکہ تباہی کے بعد دوبارہ تعمیر ہو سکے،
بقا صرف حکومتی پالیسیوں پر نہیں بلکہ عوام پر بھی منحصر ہے۔ اگر مقامی کمیونٹیز، خاص طور پر دیہی آبادی، ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات میں شامل ہو جائیں تو موافقت ممکن ہے۔ درخت لگانے، پانی بچانے اور پائیدار زراعت جیسی عوامی تحریکیں کچھ امید تو دلا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہروں کو ‘‘کول سٹیز’’ کے طور پر ڈیزائن کرنا، یعنی سبز پٹیاں اور ہوا کے گزر کے راستے بنانا۔نکاسی? آب کے نظام کو بہتر بنانا تاکہ شدید بارشیں نقصان نہ پہنچا سکیں موسیماتی تبدیلی کے اقدامات میں شامل کرنا ہوں گے۔
اس وقت ملک کی جو صورت حال ہے اس میں فوری اقدامات، وسائل کے مؤثر استعمال اور مضبوط قیادت ضروری ہیں۔ اگر ماحولیاتی خطرات کو اب بھی سنجیدگی سے نہ لیا گیاتو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ یہ ملک موجود رہے گا کہ نہیں سکتے ہیں۔ لیکن اگر سمجھداری سے نمٹا گیاتو پاکستان نہ صرف زندہ رہ سکتا ہے بلکہ ترقی پذیر دنیا کے لیے ماحولیاتی لچکداری کی ایک مثال بھی بن سکتا ہے۔
ماضی کی تہذیبیں ہمیں ایک واضح سبق دیتی ہیںکہ بقا صرف اسی کی ہے جو نئی راہیں نکال سکے، اتحاد قائم رکھے اور فطرت کا احترام کرے۔ اگر ہم نے یہ اسباق نہ سیکھے تو ہمارا انجام بھی انہی عظیم تہذیبوں جیسا ہو سکتا ہے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔