امریکا اور ایران کشیدگی کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ

امریکا اور ایران کشیدگی کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ

عالمی سطح پر امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید ہلچل دیکھنے میں آ رہی ہے۔

 اسی تناظر میں قیمتی دھاتوں، خصوصاً سونے اور چاندی کی قیمتیں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق حالیہ تجارتی سیشن میں سونے کی فی اونس قیمت میں تیزی سے کمی دیکھی گئی اور یہ 150 ڈالر سے زائد گر کر تقریباً 4 ہزار 185 ڈالر کی سطح تک پہنچ گئی۔ اسی طرح چاندی کی قیمت بھی دباؤ کا شکار رہی اور 3 ڈالر 86 سینٹ کی کمی کے بعد 64 ڈالر 62 سینٹ فی اونس پر آ گئی۔اس سے قبل گزشتہ کاروباری روز کے دوران سونے کی قیمت میں مختصر اضافہ دیکھا گیا تھا، جب یہ 28 ڈالر 29 سینٹ کے اضافے کے بعد 4 ہزار 326 ڈالر 27 سینٹ فی اونس تک پہنچ گئی تھی، تاہم بعد ازاں مارکیٹ میں فروخت کے دباؤ اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کے باعث قیمتیں دوبارہ نیچے آ گئیں۔

مارکیٹ پر دباؤ کی وجوہات
ماہرین کے مطابق قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں یہ غیر معمولی اتار چڑھاؤ کئی عوامل کے باعث ہے، جن میں شامل ہیں:

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور جنگی صورتحال
امریکی ڈالر کی مضبوطی
عالمی شرحِ سود کے بلند رہنے کے امکانات
سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ سرمایہ کاری کی نئی حکمت عملی
خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور افراطِ زر کے خدشات
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو سونے کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی آسکتی ہے، تاہم اگر سفارتی سطح پر بہتری آتی ہے تو مارکیٹ میں دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

سرمایہ کاروں کا رویہ
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سرمایہ کار شدید غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں، جس کے باعث وہ بڑی خریداری سے گریز کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے سونے اور چاندی کی قیمتیں ایک واضح سمت اختیار نہیں کر رہیں۔