عالمی منڈی میں بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ حالیہ کشیدگی میں اضافے اور امریکی خام تیل کے ذخائر میں کمی ہے۔
یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکہ کی فوج نے ایران کے خلاف تازہ حملے کیے اور امریکی خام تیل کے ذخائر میں ایک اور بڑی کمی کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس نے عالمی مارکیٹ کو ہلچل میں مبتلا کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق، امریکی فوج نے ایرانی اہداف پر حملے اس وقت کیے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے واقعے کا جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس پیش رفت سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان قائم نازک جنگ بندی کو مزید خطرات کا سامنا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 83 سینٹ یا 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 92.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 68 سینٹ یا 0.8 فیصد بڑھ کر 88.97 ڈالر فی بیرل ہو گیا ہے۔گزشتہ منگل کو برینٹ خام تیل سات ہفتوں کی کم ترین سطح پر بند ہوا تھا، اور WTI بھی مئی کے آخر کے بعد اپنی سب سے کم سطح پر آ گیا تھا۔ اس کمی کی بنیادی وجہ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست حملوں کے رک جانے کا عمل تھا، جس کے لیے صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک پر دباؤ ڈالا تھا۔
تاہم، اب خطے میں صورتحال پھر کشیدہ ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو وہ دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف جاری مہم کے سبب خطے میں مستقل جنگ بندی کے امکانات کو مشکلات کا سامنا ہے۔ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت کو محدود کر رکھا ہے، جو دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ اس کے جواب میں، امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنی پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ امریکی وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ خلیجی پانیوں میں جہازوں کی آمدورفت اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات ابھی کامیاب نہیں ہوئے۔
مریکی خام تیل کے ذخائر میں مسلسل آٹھویں ہفتے کمی ریکارڈ کی گئی ہے، امریکن پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ (API) کے مطابق 5 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر 9.12 ملین بیرل کم ہوئے ہیں، اور پٹرول کے ذخائر میں بھی 1.19 ملین بیرل کی کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کی صورتحال کے دوران امریکہ نے عالمی منڈی میں اضافی تیل فراہم کرنے کا کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر ایشیا اور یورپ کو اپنی برآمدات میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم، اگر امریکی ذخائر کی کمی جاری رہی، تو اس سے عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں بے یقینی اور قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا خدشہ ہے۔