عالمی توانائی مارکیٹ میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جوابی حملوں کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔
ان واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان قائم عارضی جنگ بندی کی پائیداری پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔تفصیلات کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 58 سینٹ، یعنی 0.8 فیصد اضافے کے بعد 72.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ 88 سینٹ یا 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 70.11 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے برینٹ کروڈ کی قیمت میں 10.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جو مسلسل تیسری ہفتہ وار گراوٹ تھی۔ اس دوران آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافہ بھی دیکھا گیا، جو فروری کے آخر میں کشیدگی شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
توانائی مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی تیل مارکیٹ اس وقت متعدد خطرات سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کار اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں بہتری آتی ہے تو اس کا مارکیٹ کے مجموعی توازن پر کیا اثر پڑے گا۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تیل کی ترسیل کو ٹینکرز کی تاخیر، انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان اور بعض پیداواری بندشوں جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کے باعث سپلائی کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں ممکنہ طور پر سال کے اختتام تک کا وقت لگ سکتا ہے۔