فنڈر نہ ہونے کے باعث ن لیگ گلگت میں پیچھے رہی، موجودہ نظام کے مخالف پی ٹی آئی کے بہت سے ووٹرز نے پی پی کو ووٹ دیا:رہنما ن لیگ
ن لیگ عبرتناک شکست تسلیم کرے، جی بی کے لوگوں نے انہیں مسترد کر دیا، انہوں نے جنرل الیکشن والی دھاندلی بہرحال نہیں کی:رہنما پی پی
اسلام آباد (آن لائن‘آئی این پی) سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے موجودہ نظام کے مخالف پی ٹی آئی کے بہت سے ووٹرز نے بھی پی ٹی آئی کو انتخابی میدان میں موجود نہ پا کر مسلم لیگ ن کی بجائے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں لگ بھگ دس نشستیں جیت لینے کے باعث پیپلز پارٹی ایوان میں سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے، سنگل لارجسٹ پارٹی بن جانے کے باوجود پی پی پی کی جانب سے مصدقہ نتائج نہ ملنے کا بیانیہ حیرت ناک ہے۔مسلم لیگ ن کی ٹیم نے مختصر عرصے میں بہترین کام کیا لیکن پیپلز پارٹی کے لامحدود مالی وسائل کے مقابلے میں پارٹی فنڈر نہ ہونے کے باعث پیچھے رہ گئے۔ہمارے سفید پوش امیدواروں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور تقریباً ھر حلقے میں متاثر کْن ووٹ حاصل کیے‘دریں اثناء پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما ندیم افضل چن نے کہا ہے سندھ حکومت کے خلاف پروپیگنڈا ہوتا ہے کراچی اور سندھ میں میں مانتا ہوں بہت کام ہونے والا ہے مگر جیسے سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج ہوتا ہے کسی دوسرے صوبے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ہوتا ہے؟ میں چیلنج کرتا ہوں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ن لیگ عبرتناک شکست تسلیم کرے، جی بی کے لوگوں نے انہیں مسترد کر دیا، انہوں نے جنرل الیکشن والی دھاندلی بہرحال نہیں کی۔ ہم وفاقی حکومت کا حصہ نہیں، جب آپ یہ کہتے ہیں لگتا ہے کسی نے فائر مارا ہے۔ گلگت بلتستان الیکشن میں لوگوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ کیوں دیا؟ کیونکہ پیپلزپارٹی نے اپنے وعدے پورے کئے۔ خواجہ سعد رفیق نے غلط بات کی ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس وسائل زیادہ تھے اس لئے جیتے ہیں۔ گلگت بلتستان کا ووٹر پیسہ نہیں لیتا۔۔ میاں نواز شریف بھی تو گئے، گلگت بلتستان کے لوگوں کی توہین نا کریں کیونکہ انہوں نے ن لیگ کو ووٹ نہیں دیا۔ جی بی کا ووٹرز پیسے نہیں لیتا، اگر سعد رفیق نے بات کی ہے تو وہاں کے ووٹر کی توہین کی ہے