کینیڈا میں سکھ کمیونٹی کا G7 کانفرنس میں مودی کی شرکت کے خلاف بڑا احتجاج، 14 جون کو پارلیمنٹ ہل پر مظاہرہ ہوگا

کینیڈا میں سکھ کمیونٹی کا G7 کانفرنس میں مودی کی شرکت کے خلاف بڑا احتجاج، 14 جون کو پارلیمنٹ ہل پر مظاہرہ ہوگا

اٹاوہ: کینیڈا میں مقیم سکھ کمیونٹی کی متعدد تنظیموں نے 14 جون کو دارالحکومت اٹاوہ میں پارلیمنٹ بلڈنگ کے سامنے بڑا احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 یہ مظاہرہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو G7 ممالک کی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیے جانے کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

مودی کی دعوت پر سکھ برادری سراپا احتجاج
سکھ فیڈریشن کینیڈا، اونٹاریو گردوارہ کمیٹی، کیوبک سکھ کونسل اور ورلڈ سکھ آرگنائزیشن آف کینیڈا سمیت کئی سکھ تنظیموں نے مشترکہ طور پر مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ سکھ برادری نے کینیڈا کے ممکنہ وزیر اعظم مارک کارنی کی جانب سے نریندر مودی کو G7 کانفرنس میں مدعو کرنے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

اراکینِ پارلیمنٹ کو کھلا خط
سکھ تنظیموں نے کینیڈین پارلیمنٹ کے ارکان کو ایک کھلا خط بھی ارسال کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کو دعوت دینے کی کھلے عام مخالفت کی جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ:"بھارتی حکومت کے اہلکاروں کی جانب سے کینیڈین شہری اور خالصتان تحریک کے سرگرم رکن ہر دیپ سنگھ نجر کے قتل میں ملوث ہونے کی باضابطہ تصدیق ہو چکی ہے، اس لیے ایسے شخص کو کسی عالمی فورم میں مدعو کرنا انصاف اور عالمی اقدار کی توہین کے مترادف ہے۔"تنظیموں نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ کینیڈا کو بھارت کے ساتھ سیکیورٹی تعاون فی الفور معطل کر دینا چاہیے۔

پس منظر: نجر قتل کیس اور کینیڈا-بھارت کشیدگی
واضح رہے کہ ہر دیپ سنگھ نجر کو جون 2023 میں برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمنٹ میں کھل کر بھارت پر اس قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس بیان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے، سفارتی عملے کی واپسی، ویزہ پابندیاں اور تجارتی معاملات میں بھی رکاوٹیں دیکھی گئیں۔

G7 اجلاس اور سفارتی دباؤ
G7 ممالک کی کانفرنس اس سال اٹلی میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں بھارت کو بطور خصوصی مہمان مدعو کیا گیا ہے۔ کینیڈا میں مودی کی شرکت کے خلاف بڑھتا ہوا احتجاج نہ صرف مقامی سیاست پر اثرانداز ہو رہا ہے بلکہ عالمی سفارتکاری پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے کہ بھارت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور بیرونِ ملک سرگرمیوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

متوقع اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر سکھ کمیونٹی کا یہ احتجاج زور پکڑتا ہے تو نہ صرف مودی کی ممکنہ آمد پر سوال اٹھ سکتے ہیں بلکہ مارک کارنی جیسے سیاسی رہنماؤں کی پوزیشن بھی متاثر ہو سکتی ہے، جو آئندہ انتخابات میں جسٹن ٹروڈو کے جانشین کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔