ٹیکس فری آمدن کی حد میں اضافے کی تجویز، 6 لاکھ سے زیادہ ہونے کا امکان

ٹیکس فری آمدن کی حد میں اضافے کی تجویز، 6 لاکھ سے زیادہ ہونے کا امکان

وفاقی حکومت کی جانب سے آج پیش کیے جانے والے بجٹ 2025-26 میں متوسط طبقے کو ریلیف دینے کے لیے انکم ٹیکس سلیبز میں نرمی اور ٹیکس فری آمدن کی حد میں اضافے کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس ایکٹ کی شق 129 میں ترمیم تجویز کی گئی ہے، جس کے تحت سالانہ ٹیکس سے مستثنیٰ آمدن کی حد 6 لاکھ روپے سے بڑھائی جا سکتی ہے۔ اس ترمیم کے تحت ماہانہ 83 ہزار روپے تک آمدن رکھنے والے افراد کو ٹیکس سے مکمل چھوٹ دیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مختلف آمدنی کی سطحوں پر انکم ٹیکس کی شرح میں بھی نرمی کی تجاویز شامل ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

ماہانہ ایک لاکھ روپے آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے 2.5 فیصد کرنے کی تجویز۔
ماہانہ ایک لاکھ 83 ہزار روپے آمدن پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کر کے 12.5 فیصد کی جا سکتی ہے۔
ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار روپے آمدن پر انکم ٹیکس 25 فیصد سے کم کر کے 22.5 فیصد کیے جانے کا امکان۔
ماہانہ 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک آمدن پر ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 27.5 فیصد کرنے کی تجویز۔
3 لاکھ 33 ہزار روپے سے زائد آمدن پر 32.5 فیصد انکم ٹیکس لاگو کیے جانے پر غور۔
یہ تجاویز ان افراد کے لیے بڑی حد تک مالی ریلیف کا باعث بن سکتی ہیں جنہیں موجودہ مہنگائی کے ماحول میں بڑھتی مالی ذمہ داریوں کا سامنا ہے۔ تاہم، حتمی منظوری بجٹ تقریر کے دوران دی جائے گی۔