لاہور: کاروباری لین دین کے تنازعے پر تین افراد کے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم میسر حسین کو لاہور ہائیکورٹ نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا۔
جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس محمد طارق ندیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ملزم کی اپیل پر سماعت کی۔ وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ تھانہ سترہ، ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں 2018ء کو نیاز احمد، احمد نیاز اور فیض کے قتل کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج ہوا تھا۔ بعد ازاں تعزیمی بیان کے ذریعے میسر حسین اور اس کے ساتھیوں کو نامزد کیا گیا، تاہم مقدمے میں کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں اور نہ ہی وجہ عناد ثابت ہو سکی۔وکیل نے مزید بتایا کہ اس کیس میں شریک دیگر چار ملزمان کو پہلے ہی ٹرائل کورٹ بری کر چکی ہے، جب کہ میسر حسین کو بغیر ٹھوس شواہد کے سزائے موت سنائی گئی۔
ادھر سرکاری وکیل نے اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تفتیش، گواہوں کے بیانات، میڈیکل اور فرانزک رپورٹ سے مجرم کا جرم ثابت ہوتا ہے اور ٹرائل کورٹ نے میرٹ پر سزا سنائی تھی۔ تاہم عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ مقدمے میں کوئی براہ راست شہادت یا عینی گواہ موجود نہیں، جس بنا پر میسر حسین کو سات سال بعد بری کر دیا گیا۔