سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصل آباد میں 6 سالہ فضا نور اغوا، زیادتی اور قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں عدالت نے مجرم عبدالرزاق کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی اور ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو بھی برقرار رکھا۔
فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے 13 صفحات پر مشتمل تحریری صورت میں جاری کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ڈی این اے ٹیسٹ مجرم کی شناخت کے لیے “گولڈ اسٹینڈرڈ” کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔سپریم کورٹ کے مطابق کم سن بچی کے ساتھ درندگی اور قتل جیسے سنگین جرائم میں کسی قسم کی نرمی معاشرے کے لیے خطرناک ہے، اور سزائے موت کا مقصد معاشرے میں عبرت قائم کرنا اور ایسے جرائم کی روک تھام ہے۔تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کی موت دم گھٹنے (Asphyxiation) سے ہوئی، اور میڈیکل معائنے میں زیادتی اور بدفعلی کی تصدیق ہوئی۔
پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بچی کے ناخنوں اور کپڑوں سے حاصل شدہ نمونے کا ڈی این اے پروفائل مکمل طور پر ملزم عبدالرزاق سے میچ کر گیا۔ دورانِ تفتیش واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور بچی کی چپلیں بھی ملزم کی نشاندہی پر برآمد کی گئیں۔یاد رہے کہ 6 سالہ فضا نور کو 2 جولائی 2018 کو فیصل آباد سے اغوا کیا گیا تھا، جب وہ گھر سے اشیائے خوردونوش لینے نکلی تھی۔ اسی روز رات 8 بجے بچی کی لاش تھانہ رضا آباد کی حدود سے ایک بورے میں برآمد ہوئی۔
ملزم عبدالرزاق کو واردات کے اگلے روز لاہور ایئرپورٹ سے بیرون ملک فرار ہوتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ فیصلہ بچوں کے خلاف سنگین جرائم میں عدالتی کارروائی اور ڈی این اے ثبوت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اور معاشرے میں ایسے جرائم کے خلاف سخت پیغام بھی دیتا ہے۔