عالمی مارکیٹ میں جمعہ کے روز سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ قیمتی دھات ہفتہ وار بنیاد پر بھی خسارے کی جانب گامزن رہی۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی، مہنگائی کے خدشات اور امریکی فیڈرل ریزرو کی ممکنہ سخت مالیاتی پالیسی نے سونے کی مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 0.2 فیصد کمی کے بعد یہ 4 ہزار 113 ڈالر فی اونس پر آ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 4 ہزار 122 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔ ہفتہ وار بنیاد پر سونے کی قیمت تقریباً 1.5 فیصد کمی کی جانب بڑھ رہی ہے۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافے اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود مزید بڑھانے کے امکانات مضبوط ہوئے ہیں۔ماہرین کے مطابق سونا روایتی طور پر مہنگائی کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود کے ماحول میں سونا کوئی منافع یا سود فراہم نہیں کرتا، جس کے باعث سرمایہ کار دیگر سرمایہ کاری کے مواقع کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق رواں سال ستمبر میں امریکی شرح سود میں اضافے کے امکانات 63 فیصد تک پہنچ گئے ہیں، جو ایک ہفتہ قبل تقریباً 54 فیصد تھے۔دوسری جانب ایچ ایس بی سی نے 2026 اور 2027 کے لیے سونے کی اوسط قیمت کے اپنے تخمینوں میں کمی کر دی ہے۔ بینک کے مطابق امریکی مالیاتی پالیسی میں ممکنہ سختی اور ڈالر کی مضبوطی سونے کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔ادھر عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت میں 0.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم یہ تینوں قیمتی دھاتیں بھی ہفتہ وار بنیاد پر مجموعی طور پر کمی کی جانب بڑھ رہی ہیں۔