غزہ میں مزید 36فلسطینی شہید:اسرائیل کا لبنان میں حماس کمانڈر کی شہادت کا دعویٰ

رات گئے خیمے پر کیے گئے حملے میں 6بچے بھی شہید ، راکٹ حملوں میں ملوث مہران مصطفی طرابلس میں ڈرون حملوں میں مارے گئے، اسرائیلی فوج
غزہ میں دماغی سوجن کی بیماری پھیلنے کا خطرہ بڑھ چکا ہے، ڈبلیوایچ او کا انتباہ،فرانسیسی صدر کا فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ
غزہ؍لندن (آئی این پی )غزہ پر تازہ اسرائیلی حملوں میں 6بچوں سمیت مزید 36فلسطینی شہید ہوگئے،اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملہ کرتے ہوئے اہم حماس کمانڈر مہران مصطفی باجور کی شہادت کا دعویٰ کیا ہے جبکہ فرانسیسی صدر نے برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب میں غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کردیا۔عرب میڈیارپورٹ کے مطابق غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقے میں رات گئے کیے گئے 2اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 20افراد شہید ہو گئے، جن میں 6بچے بھی شامل ہیں۔ ادارے کے ترجمان محمود باصل نے فرانسیسی خبر رساں ادار کو بتایا کہ پہلا حملہ رات بارہ بجے کے بعد  جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں ایک خیمے پر کیا گیا جہاں بے گھر افراد مقیم تھے جبکہ دوسرا حملہ کچھ ہی دیر بعد شمالی غزہ میں ایک اور کیمپ کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق علی الصبح سے جاری اسرائیلی حملوں میں 16فلسطینی شہید ہوگئے، ان میں الشاطی پناہ گزین کیمپ پر حملے میں شہید ہونے والے 8افراد، دیر البلح میں ایک گھر پر بمباری سے شہید ہونے والے 2افراد اور خان یونس میں خیموں پر کیے گئے ڈرون حملے میں شہید ہونے والے 2افراد شامل ہیں۔ ادھر اسرائیل نے لبنان میں ایک فضائی حملے میں حماس کمانڈر کی شہادت کا دعویٰ کیا ہے ۔اسرائیلی فوج کے مطابق ڈرون طیاروں نے لبنان کے ساحلی شہر طرابلس کو نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر راکٹ حملوں میں ملوث مہران مصطفی موجود تھے ۔ دریں اثناء عالمی ادارہ صحت اور بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز وِدآئوٹ بارڈرز نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں 21ماہ سے جاری اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں دماغی سوجن کی بیماری کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔فلسطینی علاقوں میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ رِک پیپرکورن نے کہا ہے کہ ہم بچوں میں دماغی انفیکشن (میننجائٹس)  اور گردن توڑ بخار کے بڑھتے ہوئے کیسز پر بہت فکرمند ہیں۔رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ہوا سے پھیلنے والا بیکٹیریائی میننجائٹس جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور وہ خیمہ بستیوں میں آسانی سے پھیل سکتا ہے۔دوسری جانب برطانیہ کے سرکاری دورے پر موجود فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے برطانوی پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے خطاب کرتے ہوئے غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اپنے خطاب میں میکرون نے برطانیہ پر زور دیا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے فرانس کے ساتھ مل کر کام کرے۔انہوں نے کہاکہ یہی واحد راستہ ہے جو امن کی طرف لے جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ تباہ ہو چکا ہے اور مغربی کنارے کو روزانہ کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان جتنا آج خطرے میں ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔