20 فروری کو وزیر اعلی پنجاب کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے مقامی حکومتیں نہیں تو صوبائی حکومت کے ہونے کا بھی کوئی جواز نہیں چیف الیکشن کمشنر

یہ انتہائی شرمندگی کی بات ہے  پنجاب میں 2021سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے‘پنجاب حکومت کی کمیٹی اور الیکشن کمیشن کی کمیٹی  مل کر10 فروری تک اپنا کام مکمل کریں
 مقررہ ٹائم لائن پرعمل نہ ہوا تو الیکشن کمیشن معاملات اپنے ہاتھ میں لے گا‘ہمیں مجبور نہ کیا جائے  وزیر اعلی کو طلب کر کے یہاں بٹھانا پڑے:ریمارکس‘سماعت20فروری تک ملتوی
لاہور(آئی این پی )چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے  اگرمقامی حکومتیں نہیں ہوتیں تو صوبائی حکومت کے ہونے کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا،یہ انتہائی شرمندگی کی بات ہے کہ پنجاب میں 2021سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے الیکشن کمیشن میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ سماعت کی۔چیف الیکشن کمشنر نے اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے ہدایت دی کہ پنجاب حکومت کی کمیٹی الیکشن کمیشن کی کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کرے اور دونوں کمیٹیاں دس فروری تک اپنا کام مکمل کریں۔چیف الیکشن کمشنر نے خبردارکیا کہ اگر مقررہ ٹائم لائن پرعمل نہ ہوا تو الیکشن کمیشن معاملات اپنے ہاتھ میں لے گا،ضرورت پڑنے پر بیس فروری کو وزیر اعلی پنجاب کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے،اورہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ وزیر اعلی کو طلب کر کے یہاں بٹھانا پڑے۔سماعت کے دوران سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب نے بتایاکہ معاملہ پنجاب کابینہ کی کمیٹی میں گیا جہاں تاخیر سے نمٹایا گیا،یونین کونسلز اورٹائونزکی ڈیمارکیشن پراعتراضات دورکئے جارہے ہیں اور 26 جنوری تک ڈیمارکیشن مکمل کر لی جائے گی۔چیف سیکرٹری پنجاب نیبتایا کہ بعض مجبوریوں کیباعث ایک سے سوا ماہ کی تاخیر ہوئی،جس کی بڑی وجہ اربن اوررورل علاقوں کی نشاندہی کا تنازع ہے،ہرکوئی چاہتا ہیکہ اس کا علاقہ اربن قراردیا جائے، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے مطابق بلدیاتی الیکشن رولزکو دوبارہ ڈرافٹ کرلیا گیا ہے اور الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد انہیں نوٹیفائی کردیاجائے گا۔چیف سیکرٹری پنجاب نے مزیدبتایا  پہلے منظوری کا اختیاروزیراعلی کے پاس تھا،تاہم اب یہ اختیار صوبائی کابینہ کے پاس ہے،الیکشن کمیشن کو یقین دہانی کروائی گئی کہ اضلاع کی حد تک ڈیمارکیشن کے سوا ا تمام تیاریاں مکمل ہیں اورمزیدتاخیرنہیں ہوسکتی،الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔