علیمہ خان کی میڈیا سے گفتگو میں اہم نکات یہ تھے:
عمران خان کا جیل سے باہر آنے کا عزم: علیمہ خان نے کہا کہ جب عمران خان کو باہر آنا ہوگا تو ان شاء اللہ فجر کے وقت جیل کا دروازہ کھل جائے گا، اور انہوں نے حکومت پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جیل حکام نے مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات کے حوالے سے صبح ہی منع کر دیا تھا۔
القادر کیس: علیمہ خان نے کہا کہ القادر کیس ہائی کورٹ میں جائے گا، اور اس سے دنیا کو پتہ چلے گا کہ یہ کیس ایک بڑا مذاق ہے۔ وہ پُرعزم ہیں کہ عمران خان تمام کیسز سے بری ہوں گے اور ان کے حق میں فیصلے آئیں گے۔
پریس کانفرنس پر تبصرہ: علیمہ خان نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس سن کر عمران خان مسکرائے اور انہیں بڑی خوشی ہوئی۔
معالج سے ملاقات میں رکاوٹ: انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا، جسے وہ ٹارچر قرار دے رہی ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھانے کا ارادہ: علیمہ خان نے کہا کہ وہ اپنے کیسز کو بین الاقوامی سطح پر لے جائیں گے، اور پاکستان نے یو این کنونشن پر دستخط کیے ہیں، اس لیے وہ عالمی اداروں کے پاس جائیں گے۔
گرفتاریوں اور سازشوں کا ذکر: علیمہ خان نے مزید کہا کہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا اور وہ عمران خان کی حفاظت بھی کریں گے اور اس پر ہونے والی غلطیوں اور غداریوں کو سامنے لائیں گے۔یہ گفتگو حکومتی اقدامات، عمران خان کی جیل میں حالت اور ان کے قانونی معاملات پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔