لندن،اوسلو(آئی این پی )جیفری ایپسٹین فائلوں کے منظر عام پر آنے کے بعد برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے چیف آف اسٹاف مورگن مک سویینی نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔ مک سویینی نے کہا کہ انہوں نے پیٹر مینڈلسن کو امریکا میں برطانیہ کا سفیر مقرر کرنے کا مشورہ دینے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ مینڈلسن کے جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ کافی گہرے تعلقات تھے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ استعفی ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی جاری کردہ ایپسٹین فائلوں میں لیبر پارٹی کے سینئر رہنما پیٹر مینڈلسن اور جیفری ایپسٹین کے تعلقات کی گہرائی آشکار ہوئی۔ انہی انکشافات کے بعد وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کو اقتدار میں اپنے 18 ماہ کے دوران سب سے سنگین بحران کا سامنا ہے، جس کی بنیادی وجہ 2024 میں مینڈلسن کو واشنگٹن بھیجنے کا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔48 سالہ مورگن مک سویینی، جو کیئر اسٹارمر کے اقتدار تک پہنچنے میں ایک کلیدی حکمتِ عملی ساز سمجھے جاتے تھے