بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے حالیہ دورۂ پیرس کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کی ہے۔
ان کا خصوصی طیارہ 'انڈیا ون' نئی دہلی سے روانہ ہو کر اوکاڑہ کے قریب سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا اور تقریباً 40 منٹ تک پاکستان کی فضائی حدود میں پرواز کرتا رہا۔ اس دوران طیارہ لاہور، حافظ آباد، سرگودھا، تلہ گنگ، اور کوہاٹ کے اوپر سے گزرتا ہوا لنڈی کوتل کے راستے افغان فضائی حدود میں داخل ہوا۔اس سے قبل بھی ستمبر 2024 میں نریندر مودی نے امریکا سے واپسی پر پاکستانی فضائی حدود استعمال کی تھی، جب ان کا طیارہ چترال کے اوپر سے داخل ہو کر اسلام آباد اور لاہور کے فضائی کنٹرول ایریاز سے گزرا تھا۔عام طور پر، غیر ملکی سربراہانِ مملکت جب کسی ملک کی فضائی حدود سے گزرتے ہیں تو خیرسگالی کا پیغام بھیجتے ہیں، تاہم اطلاعات کے مطابق، نریندر مودی نے ان پروازوں کے دوران پاکستانی حکومت یا عوام کو کوئی خیرسگالی پیغام نہیں بھیجا۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بھارتی صدر دروپدی مرمو نے اکتوبر 2024 میں افریقی ممالک کے دورے کے دوران پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کیا تھا اور متبادل راستہ اختیار کیا تھا۔نریندر مودی کے حالیہ دورۂ پیرس کے دوران، وہ اے آئی سمٹ کے تیسرے ایڈیشن کی صدارت کریں گے اور 12 فروری کو امریکا روانہ ہوں گے، جہاں وہ اپنی دوسری مدتِ وزارتِ عظمیٰ کے دوران پہلی بار صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔