خیبرپختونخوا میں جب گورنر راج لگایا جائے گا تو اس کا جواز بھی ہوگا عطا ء تارڑ

 ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل   سروے میں 66 فیصد لوگوں نے کہا  شفافیت اور میرٹ کو ترجیح دی گئی ہے، ملک کے ڈیفالٹ کی شرطیں لگتی تھیں، لیکن اب ہم استحکام سے ترقی کی طرف جار ہے ہیں 
 لوگوں نے فوج مخالف بیانیہ کو مسترد کر دیا ہے، لوگ پشاور جلسے میں نہیں گئے،قانون کی خلاف ورزی کے بعد عمران خان سے کسی کی ملاقات کا ایک فیصد بھی امکان نہیں:وزیراطلاعات
اسلام آباد(آئی این پی ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے  جب گورنر راج لگایا جائے گا تو اس کا جواز بھی ہوگا، گورنر راج کی گنجائش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب گورننس کی کمی ہو ، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سروے میں 66 فیصد لوگوں نے کہاکہ کسی کم کیلئے رشوت نہیں دی، ملک میں شفافیت اور میرٹ کو ترجیح دی گئی ہے، ملک کے ڈیفالٹ کی شرطیں لگتی تھیں، لیکن اب ہم استحکام سے ترقی کی طرف جا رہے ہیں۔ایک  انٹرویو میں وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ گورنر راج کی گنجائش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب حکومت اپنے کام نہ کر رہی ہو، صوبائی حکومت امن وامان، انسداد دہشت گردی میں ناکام اور گورننس ایشو ہوں تو گورنر راج آپشن ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں نے فوج مخالف بیانیہ کو مسترد کر دیا ہے، لوگ پشاور جلسے میں نہیں گئے۔ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر میں سفارش بالکل ختم کر دی گئی ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سروے میں 66 فیصد لوگوں نے کہا کہ کسی کام کیلئے رشوت نہیں دی، ملک میں ٹرانسپیرنسی اور میرٹ کو ترجیح دی گئی ، ملک کے ڈیفالٹ کی شرطیں لگتی تھیں، اب ہم استحکام سے ترقی کی طرف جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آئی ایم ایف کے تحت ریفارم اور فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے سے معاشی استحکام آیا ہے،