لاہور:وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے تاریخی دورہ چین کے دوران پنجاب اور چین نے ماحولیاتی تحفظ اور بہتری کے لیے قریبی اشتراک کا اعلان کیا ہے۔
دونوں فریقین نے "بیجنگ-پنجاب کلین ایئر مشترکہ ورکنگ گروپ" تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، جس میں پنجاب کی نمائندگی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کریں گی۔
اہم اقدامات:
ایئر کوالٹی مینجمنٹ سسٹم:
چین کے تعاون سے پنجاب میں جدید ایئر کوالٹی مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔
ماحولیاتی علوم کا تبادلہ:
پالیسی کوآرڈینیشن، ڈیٹا مانیٹرنگ، گرین اربن پلاننگ، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے شعبوں میں تعاون کیا جائے گا۔
ای ٹرانسپورٹ سسٹم:
پنجاب میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ متعارف کرانے کے لیے چین کے تجربات اور مہارت سے استفادہ کیا جائے گا۔
زراعت اور توانائی:
چین ماحول دوست زرعی مشینری، ہائیڈرو پاور پروجیکٹس، اور پانی کے موثر استعمال میں پنجاب کی مدد کرے گا۔
حیاتیاتی تنوع اور شجر کاری:
جنگلی حیات کے تحفظ اور شجر کاری کے منصوبے دونوں حکومتوں کے درمیان تفصیلی تبادلہ خیال کا حصہ رہے۔
ماحولیاتی بہتری کے منصوبے:
پنجاب میں ایک ماڈل شہر بنانے کا منصوبہ بھی زیر غور آیا جو ماحولیاتی لحاظ سے جدید ہوگا۔چین نے پنجاب میں اسموگ اور ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے تاثرات:
مریم نواز نے چین کے ماحولیاتی ماڈلز کو اپنانے کی خواہش ظاہر کی اور سی پیک کے دوسرے مرحلے کو ماحول دوست منصوبوں کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا:"مارچ 2024 میں حکومت سنبھالنے کے بعد اسموگ سے بچاؤ کا پہلا جامع پلان دیا اور بڑے پیمانے پر شجرکاری اور جنگلات کی بحالی کے منصوبے شروع کیے۔"
چین کی وزارت ماحولیات کی یقین دہانی:
چینی وزیر ماحولیات ہوانگ رانچیو نے پنجاب کی ماحولیاتی کاوشوں کی تعریف کی اور ماحولیاتی تحفظ میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
مریم اورنگزیب کی قیادت:
وزیر اعلیٰ نے سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کی کوششوں کو سراہا، جو اسموگ کے خاتمے اور ماحولیاتی مسائل پر دن رات کام کر رہی ہیں۔یہ تعاون پاکستان اور چین کے تعلقات میں مزید استحکام اور پنجاب کی ماحولیاتی پالیسیوں میں بہتری کا عکاس ہے۔