سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) نے مارچ 2026 کے دوران کراچی میں جرائم کی تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں شہر میں مختلف نوعیت کے جرائم کی تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مارچ کے مہینے میں کراچی میں مجموعی طور پر 3027 موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں، جبکہ 440 موٹر سائیکلیں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں۔اسی عرصے میں شہریوں کو 1265 موبائل فونز سے محروم کیا گیا، جو اس نوعیت کے جرائم میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔سی پی ایل سی کے مطابق مارچ میں 140 کاریں چوری جبکہ 17 گاڑیاں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں۔سنگین جرائم کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں اس ماہ قتل کے 44 واقعات اور بھتہ خوری کے 6 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ اغوا برائے تاوان کا ایک کیس بھی درج کیا گیا۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خوش آئند طور پر مارچ کے دوران کراچی میں بینک ڈکیتی کی کوئی واردات رپورٹ نہیں ہوئی۔ماہرین کے مطابق کراچی میں جرائم کی یہ شرح شہریوں کے لیے تشویش کا باعث ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔