شمالی کوریا نے اپنی فوجی صلاحیتوں میں مزید اضافے کا دعویٰ کرتے ہوئے کلسٹر بم وار ہیڈ سے لیس بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے، جسے خطے میں طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق “ہواسانگ-11” بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا گیا، جو کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے تقریباً 7 ہیکٹر کے رقبے پر موجود اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی اکیڈمی آف ڈیفنس سائنس اور میزائل ایڈمنسٹریشن نے اس تجربے کے دوران دیگر جدید نظاموں کا بھی ٹیسٹ کیا، جن میں برقی مقناطیسی ہتھیاروں کا نظام، کاربن فائبر بم اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے طیارہ شکن میزائل شامل ہیں۔جنرل کم جونگ سک کے مطابق یہ ٹیکنالوجیز شمالی کوریا کی فوج کے لیے “خصوصی اثاثے” ہیں جو مستقبل کے دفاعی نظام میں اہم کردار ادا کریں گے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے یہ تجربات یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات سے حاصل کیے گئے اسٹریٹجک سبق کا نتیجہ ہو سکتے ہیں، جن کا مقصد اپنی دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
جنوبی کوریا کی کیونگنم یونیورسٹی کے پروفیسر لم ایول چول کے مطابق برقی مقناطیسی ہتھیار دشمن کے الیکٹرانک نظام کو غیر فعال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے جدید جنگی طیارے اور دفاعی نظام متاثر ہو سکتے ہیں۔اسی طرح کاربن فائبر بم کو ماہرین ایسے ہتھیار کے طور پر بیان کرتے ہیں جو برقی نظام کو مفلوج کر کے بنیادی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ان تجربات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور جنوبی کوریا سمیت خطے کے دیگر ممالک کی دفاعی حکمت عملیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔یاد رہے کہ 2019 میں امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان جوہری مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پیانگ یانگ نے اپنے میزائل پروگرام میں تیزی لائی تھی، اور تب سے وہ مسلسل اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافے کے دعوے کر رہا ہے۔