شمالی کوریا نے اپنی فوجی اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے نئے ڈیزائن کردہ فضائی دفاعی میزائل سسٹم کا تجربہ کرنے کے ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک کروز میزائل سے حملے کی مشق بھی کی ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے دونوں فوجی سرگرمیوں کو کامیاب قرار دیتے ہوئے انہیں ہتھیاروں کی تکنیکی صلاحیت اور جنگی اعتبار بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے جمعرات کو بتایا کہ دونوں فوجی مشقیں بدھ کے روز انجام دی گئیں۔ ان مشقوں کا مقصد جدید میزائل ٹیکنالوجی کی کارکردگی جانچنے، ہتھیاروں کے نظام کو بہتر بنانے اور فوجی تیاریوں کو مزید مؤثر بنانا تھا۔شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق نئے فضائی دفاعی میزائل سسٹم کے تجربے کے دوران ہدف کی نشاندہی، نگرانی اور میزائل کے جدید رہنمائی نظام کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے تجربے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نئے نظام نے مقررہ تکنیکی اہداف حاصل کیے۔دوسری جانب شمالی کوریا کے مشرقی علاقے میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک کروز میزائل سے حملے کی مشق بھی کی گئی۔ اس مشق کے دوران میزائل یونٹ نے ایک فرضی ہوائی اڈے کو ہدف بنایا اور میزائل داغ کر اسے کامیابی سے نشانہ بنانے کا مظاہرہ کیا۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس مشق کا مقصد اسٹریٹجک کروز میزائلوں کی جنگی صلاحیت، ہدف کو نشانہ بنانے کی درستگی اور فوجی یونٹس کی عملی تیاریوں کا جائزہ لینا تھا۔ادھر جنوبی کوریا کی فوج نے بھی بدھ کے روز شمالی کوریا کی جانب سے میزائل سرگرمیوں کی نشاندہی کی۔ جنوبی کوریا کے فوجی حکام کے مطابق شمالی کوریا کے علاقے سونڈوک سے متعدد میزائل بحیرہ جاپان کی جانب داغے جانے کا پتا چلا تھا۔رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا حالیہ ہفتوں کے دوران مختلف جدید ہتھیاروں کے تجربات بھی کر چکا ہے، جن میں کلسٹر بم، حملہ آور ڈرونز، جدید ٹارپیڈو سسٹم اور ہائپرسونک میزائل شامل ہیں۔ ان مسلسل تجربات کو شمالی کوریا کی دفاعی اور عسکری ٹیکنالوجی میں پیش رفت کی کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربات اور فوجی مشقوں میں اضافے کے باعث خطے میں سکیورٹی صورتحال پر بھی توجہ مرکوز ہے۔ خصوصاً امریکا اور جنوبی کوریا کے ساتھ شمالی کوریا کے تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے، جبکہ دونوں ممالک شمالی کوریا کی عسکری سرگرمیوں کو علاقائی سلامتی کے تناظر میں اہم قرار دیتے رہے ہیں۔